
دھندلا نظر آنے کی وجوہات: آنکھوں کا معائنہ کب ضروری ہے
نظر دھندلی ہو رہی ہے؟ آنکھوں کی خشکی سے لے کر ذیابیطس تک، دھندلا نظر آنے کی عام وجوہات جانیں اور کراچی میں آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر کو دکھانے کا صحیح وقت معلوم کریں۔
دھندلا نظر آنے کی وجوہات میں فوکس کے عام مسائل بھی شامل ہیں اور آنکھوں یا جسم کی ایسی بیماریاں بھی جن کا اہم نکات
فوری معائنہ ضروری ہے۔
عام وجوہات میں دور کی نظر کی کمزوری (مایوپیا)، قریب کی نظر کی کمزوری (ہائپروپیا)، ایسٹگمیٹزم، آنکھوں کی خشکی، موتیا، ذیابیطس سے آنکھ میں آنے والی تبدیلیاں اور مائیگرین شامل ہیں۔
نظر کا آہستہ آہستہ دھندلا ہونا عموماً چشمے کے نمبر میں تبدیلی، آنکھوں کی خشکی یا عمر کے ساتھ لینس میں آنے والے فرق کی نشانی ہے۔
اچانک دھندلا نظر آنے کے ساتھ آنکھ کا شدید درد، چہرے کی کمزوری، سن ہونا، الجھن یا بولنے میں دشواری ہو تو فوری طبی توجہ ضروری ہے۔
مستقل، بڑھتی ہوئی یا بلاوجہ دھندلاہٹ کی وجہ جاننے کے لیے آنکھوں کا مکمل معائنہ کروائیں۔
طبی وضاحت: یہ مضمون دی ماڈرن ہسپتال کی طرف سے عام صحت کی آگاہی اور معلومات کے لیے ہے۔ یہ دھندلا نظر آنے کی وجہ کی تشخیص نہیں کرتا اور نہ ہی کسی مستند ڈاکٹر کے معائنے، تشخیص یا علاج کا متبادل ہے۔ اچانک نظر چلی جانا، آنکھ کا شدید درد، آنکھ پر شدید چوٹ، کیمیکل پڑ جانا، یا نظر کی تبدیلی کے ساتھ اعصابی علامات ہوں تو فوراً ڈاکٹر کو دکھائیں۔
کیا آپکو سڑک کے بورڈ پڑھتے ہوئے آنکھوں پر ظور ڈالنا پڑتا ہے، یا اسکرین کے قریب ہو کر بیٹھنا پڑتا، یا بار بار پلکیں جھپکنی پڑتی ہیں کیونکہ نظر پہلے جتنی صاف نہیں رہی؟
نظر اس وقت دھندلی ہوتی ہے جب آنکھ کا فوکس کرنے والا نظام، آنکھ کی سطح، ریٹینا یا دیکھنے کا اعصابی راستہ کسی وجہ سے متاثر ہو جائے۔ عام وجوہات میں چشمے کا نمبر، آنکھوں کی خشکی، مائیگرین، موتیا اور ذیابیطس سے آنکھ کو پہنچنے والا نقصان شامل ہیں۔
پاکستان میں نظر کے مسائل پہلے ہی بہت سے لوگوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ تقریباً 2 کروڑ 60 لاکھ لوگ نابینا پن یا کمزور نظر کا شکار ہیں، جن میں تقریباً 30 لاکھ بچے بھی شامل ہیں۔ اتنی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے نظر میں آنے والی ہر تبدیلی کو وقت پر سنجیدگی سے لینا بہت ضروری ہے۔
دھندلاہٹ بار بار آئے یا ٹھہر جائے، خاص طور پر جب پڑھنے، گاڑی چلانے، کام یا روزمرہ کاموں میں رکاوٹ بننے لگے، تو آنکھوں کا معائنہ کروائیں۔ نظر اچانک چلی جائے یا اس میں بڑی تبدیلی آئے، خاص طور پر آنکھ کے شدید درد، چہرے کی کمزوری، سن ہونے یا بولنے میں دشواری کے ساتھ، تو فوراً طبی امداد لیں.
اس مضمون میں آپ جانیں گے کہ نظر دھندلی ہونے کی عام وجوہات کیا ہیں، مختلف بیماریاں نظر کو کیسے متاثر کرتی ہیں، آنکھوں کا معائنہ کب کروانا چاہیے، اور کون سی علامات فوری توجہ مانگتی ہیں۔
آنکھ صاف کیسے دیکھتی ہے
ہر صاف تصویر کے پیچھے یہ بات ہوتی ہے کہ روشنی آنکھ کے اندر صحیح راستے سے گزرے۔ سب سے پہلے روشنی آنسوؤں کی تہہ اور قرنیہ سے گزرتی ہے، جو ایک ہموار سطح بناتے ہیں اور آنکھ کی فوکس کرنے کی زیادہ تر طاقت فراہم کرتے ہیں۔ پھر روشنی قدرتی لینس سے گزرتی ہے، جو اپنا فوکس اس کے مطابق بدلتا ہے کہ آپ کیا دیکھ رہے ہیں:
اپنا موبائل فون
کمرے کے دوسرے سرے پر کسی کا چہرہ
دور لگا ہوا سڑک کا بورڈ
وہاں سے روشنی آنکھ کے پچھلے حصے میں ریٹینا تک پہنچتی ہے۔ ریٹینا اسے برقی اشاروں میں بدل دیتا ہے، جو آپٹک نرو کے ذریعے دماغ تک جاتے ہیں اور وہاں تصویر بن جاتے ہیں۔ اس راستے میں کہیں بھی رکاوٹ آئے تو نظر دھندلی ہو جاتی ہے۔ مسئلہ آنکھ کی سطح، فوکس کرنے والے حصے، ریٹینا یا دیکھنے کے اعصابی راستے میں سے کسی ایک جگہ ہوتا ہے۔ آنکھوں کا معائنہ بتاتا ہے کہ رکاوٹ کہاں ہے اور اس کی وجہ کیا ہے۔
چشمے کا نمبر: دھندلی نظر کی سب سے عام وجہ
چشمے کا نمبر (ریفریکٹو ایرر) اس وقت بنتا ہے جب روشنی ریٹینا پر ٹھیک سے فوکس نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے:
مخصوص فاصلوں پر چیزیں صاف نظر نہیں آتیں
آنکھوں کو فوکس رکھنے کے لیے زیادہ زور لگانا پڑتا ہے
قریب اور دور دونوں کی نظر بگڑی ہوئی لگتی ہے
مایوپیا (دور کی نظر کمزور ہونا)
مایوپیا میں دور کی چیزیں دھندلی اور قریب کی چیزیں نسبتاً صاف نظر آتی ہیں۔ آپ فون آرام سے پڑھ لیتے ہیں مگر سڑک کے بورڈ، کلاس کا بلیک بورڈ، ٹی وی کی سب ٹائٹلز یا بڑے کمرے میں دور کھڑے شخص کا چہرہ دیکھنے میں مشکل ہوتی ہے۔
ہائپروپیا (قریب کی نظر کمزور ہونا)
ہائپروپیا میں آنکھ کو فوکس کرنے میں دقت ہوتی ہے، خاص طور پر قریب کا کام کرتے وقت۔ دیر تک پڑھنے، کمپیوٹر یا فون استعمال کرنے سے قریب کی نظر دھندلی ہو جاتی ہے، آنکھیں تھک جاتی ہیں، ماتھے پر بوجھ محسوس ہوتا ہے اور مسلسل فوکس کرنے کی کوشش سے سر درد ہوتا ہے۔
ایسٹگمیٹزم
ایسٹگمیٹزم میں قرنیہ یا قدرتی لینس کی بناوٹ ہموار نہیں ہوتی۔ روشنی ایک نقطے پر فوکس ہونے کے بجائے مختلف نقطوں پر بکھر جاتی ہے۔ حروف کے کنارے دھندلے ہو جاتے ہیں، روشنیاں کھنچی ہوئی یا بگڑی ہوئی دکھتی ہیں، اور قریب اور دور دونوں فاصلوں پر چیزیں دھندلی نظر آتی ہیں۔
پریسبایوپیا (عمر کے ساتھ قریب کی نظر کمزور ہونا)
پریسبایوپیا میں عمر بڑھنے کے ساتھ قریب دیکھنے کی صلاحیت کم ہو جاتی ہے، جو عموماً چالیس کے قریب محسوس ہونے لگتی ہے۔ قدرتی لینس آہستہ آہستہ لچک کھو دیتا ہے، اس لیے قریب کی تحریر پر فوکس کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔ آپ فون کو دور کر کے پڑھنے لگتے ہیں، فونٹ بڑا کرتے ہیں، یا مینو، رسیدیں اور میسجز پڑھنے کے لیے زیادہ روشنی ڈھونڈتے ہیں۔
تیار شدہ ریڈنگ گلاسز میں دونوں شیشوں کا نمبر ایک جیسا ہوتا ہے۔ وہ دونوں آنکھوں کے الگ الگ نمبر کا خیال رکھتے ہیں نہ ایسٹگمیٹزم کا۔ اگر قریب دیکھتے وقت آنکھوں پر زور پڑتا ہے یا نظر دھندلی رہتی ہے تو آنکھوں کا ٹیسٹ کروائیں، اس سے آپ کی اپنی نظر کے مطابق صحیح چشمہ ملتا ہے۔
آنکھوں کی خشکی اور بدلتی ہوئی دھندلی نظر
کیا آپ کی نظر ایک لمحے صاف ہوتی ہے، اگلے لمحے دھندلی، اور پلک جھپکتے ہی دوبارہ صاف؟
یہ انداز زیادہ تر آنسوؤں کی تہہ کے غیر مستحکم ہونے کی نشانی ہے۔ ہر بار پلک جھپکنے پر آنسو قرنیہ پر ایک ہموار تہہ بناتے ہیں۔ جب یہ تہہ بہت جلد ٹوٹ جاتی ہے تو قرنیہ کی سطح ناہموار ہو جاتی ہے اور روشنی صاف طریقے سے آنکھ میں داخل نہیں ہوتی۔ نظر بدلتی رہتی ہے، اور آنکھوں میں چبھن، جلن، تھکاوٹ یا بے آرامی محسوس ہوتی ہے۔
اسکرین کا استعمال
لیپ ٹاپ، فون یا ٹیبلٹ پر دیر تک کام کرنے سے پلک جھپکنے کی تعداد کم ہو جاتی ہے اور جھپکنا مکمل بھی نہیں ہوتا۔ پلکیں پوری طرح نہ جھپکیں تو آنسوؤں کی تہہ تازہ نہیں ہوتی۔ سطح خشک ہو جاتی ہے، تحریر کی صفائی کم ہو جاتی ہے، اور دن گزرنے کے ساتھ آنکھوں کی بے آرامی بڑھتی جاتی ہے۔
دھول، آلودگی اور باہر کا ماحول
گاڑیوں کا دھواں، تعمیراتی دھول، دھواں اور ہوا میں اڑتے ذرات آنکھ کی سطح کو تنگ کرتے ہیں اور آنسوؤں کی تہہ بگاڑ دیتے ہیں۔ روزانہ ان کا سامنا کرنے سے آنکھیں سرخ، کھردری، پانی بھری یا دھندلی ہو جاتی ہیں، خاص طور پر سفر کے بعد یا دیر تک باہر رہنے کے بعد۔
اے سی اور سیدھی آتی ہوئی ہوا
اے سی، پنکھے اور سیدھی چلنے والی ہوا آنسوؤں کو جلدی خشک کر دیتی ہے۔ دفتر میں اے سی کے وینٹ کے نیچے یا پنکھے کے بالکل سامنے گھنٹوں بیٹھنے سے آنکھ کی سطح جلد خشک ہوتی ہے اور دن بھر نظر بدلتی رہتی ہے۔
خشک آنکھ سے پانی کیوں بہتا ہے
آنکھ خشک ہو تو الٹا پانی بھی بہنے لگتا ہے۔ سطح میں جلن ہو تو آنکھ اچانک بہت سارے ریفلیکس آنسو بہا دیتی ہے۔ ان آنسوؤں میں تیل، پانی اور لعاب کا وہ متوازن مرکب نہیں ہوتا جو قرنیہ کی سطح کو مستحکم رکھتا ہے۔ اسی لیے آنکھوں سے خوب پانی بہتا ہے مگر وہ خشک اور دھندلی بھی رہتی ہیں۔
بار بار دھندلاہٹ، جلن، چبھن یا مسلسل پانی بہنے پر آنکھوں کا معائنہ کروائیں، خاص طور پر جب یہ علامات پڑھنے، اسکرین کے استعمال، گاڑی چلانے یا روزمرہ آرام کو متاثر کریں۔
جب سر درد اور اعصابی تبدیلیاں نظر کو متاثر کرتی ہیں
کبھی دھندلا نظر آنے کی وجہ آنکھ کے باہر ہوتی ہے۔ مائیگرین، خون کی نالیوں کی سوزش اور دماغ کے اردگرد دباؤ بڑھانے والی بیماریاں، سب دیکھنے کے اعصابی راستے کو متاثر کرتی ہیں۔
اورا کے ساتھ مائیگرین
مائیگرین اورا میں سر درد سے پہلے یا اس کے دوران نظر میں عارضی تبدیلیاں آتی ہیں۔ آپ کو یہ چیزیں نظر آتی ہیں:
چمکتی ہوئی یا ٹیڑھی میڑھی (زگ زیگ) لکیریں
روشنی کے جھماکے
بڑھتا ہوا اندھا دھبا
نظر کے بگڑے ہوئے حصے
کچھ دیر صاف نہ دیکھ پانا
یہ علامات عموماً آہستہ آہستہ شروع ہوتی ہیں اور تقریباً ایک گھنٹے میں ختم ہو جاتی ہیں۔ نظر میں اچانک خلل کا پہلا واقعہ پھر بھی ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے، خاص طور پر اگر ساتھ کمزوری، سن ہونا، الجھن یا بولنے میں دشواری ہو۔
جائنٹ سیل آرٹیرائٹس
جائنٹ سیل آرٹیرائٹس (ٹیمپورل آرٹیرائٹس) خون کی نالیوں کی سوزش کی بیماری ہے جو زیادہ تر 50 سال سے اوپر کے لوگوں میں ہوتی ہے۔ اس کی عام علامات یہ ہیں: کنپٹیوں کے آس پاس نیا شدید سر درد، سر کی جلد کو چھونے سے درد، کچھ چباتے ہوئے جبڑے میں درد، اور نظر میں خلل۔ اچانک دھندلاہٹ، دوہری نظر آنا یا نظر چلی جانا فوری معائنہ مانگتا ہے، کیونکہ سوزش آپٹک نرو تک خون کا بہاؤ روک دیتی ہے۔
دماغ کے اندر دباؤ کا بڑھنا
دماغ کے اردگرد دباؤ بڑھے تو آپٹک نرو سوج جاتا ہے، جسے پیپیلیڈیما کہتے ہیں۔ عام علامات میں مسلسل سر درد، لمحہ بھر کے لیے نظر کا اندھیرا ہونا، متلی یا دوہری نظر شامل ہیں۔ آنکھوں کے معائنے میں آپٹک نرو کی سوجن نظر آتی ہے، جس کے بعد اعصابی جانچ کی ضرورت پڑتی ہے۔
اگر دھندلی نظر کے ساتھ غیر معمولی یا شدید سر درد ہو تو ساتھ کی علامات اور ان کا وقت طے کرتا ہے کہ معائنہ کتنی جلدی ضروری ہے۔
ذیابیطس اور دھندلی نظر
ذیابیطس نظر کو دو طرح متاثر کرتی ہے: فوکس میں وقتی تبدیلیاں، اور ریٹینا کو طویل مدتی نقصان۔ ذیابیطس کے مریضوں کو نظر کی ہر تبدیلی پر خاص توجہ دینی چاہیے، کیونکہ آنکھ کا قدرتی لینس اور ریٹینا کی خون کی نالیاں، دونوں خون میں شوگر کی مسلسل تبدیلی کے لیے حساس ہوتے ہیں۔
فوکس میں وقتی تبدیلیاں
خون میں شوگر کی سطح میں بڑی تبدیلی لینس کے اندر پانی کا توازن بدل دیتی ہے۔ پانی کی مقدار بدلنے سے لینس کی شکل بدلتی ہے اور آنکھ کا فوکس عارضی طور پر متاثر ہوتا ہے۔ شوگر بدلتی رہے تو کئی دن یا ہفتے تک آپ کو لگتا ہے کہ چشمے کا نمبر بدل گیا ہے۔
اسی لیے شوگر غیر مستحکم ہو تو بار بار چشمہ بدلنے سے اصل مسئلہ حل نہیں ہوتا۔ پہلے شوگر کی جانچ اور اسے مستحکم کرنا ضروری ہے۔
ڈائبیٹک ریٹینوپیتھی
طویل عرصے تک شوگر زیادہ رہنے سے ریٹینا کو خون پہنچانے والی چھوٹی نالیاں خراب ہو جاتی ہیں۔
ذیابیطس سے آنکھ کی بیماری ابتدا میں عموماً بغیر درد اور بغیر نظر کی واضح تبدیلی کے شروع ہوتی ہے۔ ریٹینا کا نقصان بڑھنے پر نالیوں سے رساؤ ہوتا ہے اور سوجن آتی ہے، جبکہ نئی غیر معمولی نالیاں وٹریئس (آنکھ کے اندر کے شفاف جیل) میں خون بہا کر نظر میں رکاوٹ ڈالتی ہیں۔
رساؤ جب میکیولا (باریک مرکزی نظر کے ذمہ دار حصے) کو متاثر کرے تو پڑھنا اور باریک چیزیں پہچاننا مشکل ہوتا چلا جاتا ہے۔ ریٹینا کی باقاعدہ جانچ سے یہ تبدیلیاں نظر کے بڑے نقصان سے پہلے پکڑ لی جاتی ہیں۔
آنکھوں کی حفاظت کے لیے ذیابیطس پر قابو
آنکھوں کی دیکھ بھال ذیابیطس کے علاج کا ایک حصہ ہے۔ خون میں شوگر، بلڈ پریشر، کولیسٹرول، گردوں کی صحت اور ادویات، سب ذیابیطس کی پیچیدگیوں کے خطرے پر اثر ڈالتے ہیں۔ ڈائبیٹالوجی کے ذریعے آپ کے ذیابیطس کے علاج کا جائزہ نظر کی تبدیلیوں کے ساتھ ساتھ لیا جاتا ہے۔
اپنی طبی ٹیم کے مقرر کردہ ہدف کے اندر شوگر اور بلڈ پریشر رکھنے سے ریٹینا کی نالیوں پر دباؤ کم رہتا ہے۔ آپ کے ڈاکٹر یا آنکھوں کے ماہر بتائیں گے کہ ذیابیطس کی قسم اور دورانیے، آنکھوں کے پچھلے نتائج، حمل اور مجموعی خطرے کے مطابق ریٹینا کا معائنہ کتنی بار ہونا چاہیے۔
اگر آپ کو ذیابیطس ہے اور نئی دھندلاہٹ، فلوٹرز (آنکھ کے سامنے تیرتے دھبے)، اندھیرے دھبے، نظر میں بگاڑ یا اچانک تبدیلی محسوس ہو تو یہ سمجھ کر نہ بیٹھیں کہ چشمے کا مسئلہ ہے، آنکھوں کا معائنہ کروائیں۔
جب دھندلی نظر کے ساتھ آنکھ میں درد ہو
دھندلی نظر کے ساتھ آنکھ میں نمایاں درد ہو تو زیادہ احتیاط چاہیے۔ گہرا درد، بہت سرخ آنکھ، روشنی سے شدید چبھن، متلی یا تیزی سے بگڑتی نظر، یہ سب قرنیہ، آنکھ کے اندرونی حصوں یا آنکھ کے اندر کے دباؤ سے جڑی بیماریوں میں ہوتا ہے۔
ایکیوٹ اینگل کلوژر گلوکوما (کالے پانی کا اچانک حملہ)
اس میں آنکھ کے اندر دباؤ بہت تیزی سے بڑھ جاتا ہے۔ عام علامات یہ ہیں:
ایک آنکھ میں یا اس کے اردگرد شدید درد
سرخی
دھندلی یا دھند میں لپٹی نظر
روشنیوں کے گرد دائرے
سر درد
متلی یا قے
یہ آنکھ کی ہنگامی حالت ہے اور فوراً ہسپتال پہنچنا ضروری ہے۔
یوویائٹس اور قرنیہ کا انفیکشن
یوویائٹس میں آنکھ کے اندر سوزش ہوتی ہے، جس سے سرخی، گہرا درد، روشنی سے تکلیف اور دھندلی نظر ہوتی ہے۔ قرنیہ کا سنگین انفیکشن بھی درد، سرخی، پانی بہنے، روشنی سے سخت تکلیف اور نظر کی کمی کا باعث بنتا ہے۔
کانٹیکٹ لینس لگانے والوں کو آنکھ میں درد اور سرخی ہو تو فوراً آنکھوں کے ڈاکٹر کو دکھانا چاہیے، کیونکہ قرنیہ کا انفیکشن تیزی سے بڑھتا ہے۔
دھندلی نظر کے مختلف انداز کیا بتاتے ہیں
آپ کیا محسوس کرتے ہیں | عام تعلق | کیا کریں؟ |
|---|---|---|
دور کی نظر آہستہ آہستہ دھندلی ہونا، آنکھیں سکیڑنا یا تھکن | مایوپیا، ایسٹگمیٹزم یا چشمے کے نمبر کا کوئی اور مسئلہ | آنکھوں کا معائنہ کروائیں |
دن بھر نظر کا بدلتے رہنا، ساتھ جلن یا چبھن | آنکھوں کی خشکی اور آنسوؤں کی تہہ کا بگاڑ | علامات برقرار رہیں تو آنکھوں کا معائنہ کروائیں |
کئی دن یا ہفتوں میں فوکس بدلنا، بہت پیاس لگنا یا بار بار پیشاب آنا | خون میں شوگر کی تبدیلی | شوگر چیک کریں اور ڈاکٹر سے رجوع کریں |
عارضی زگ زیگ لکیریں، روشنی کے جھماکے یا حرکت کرتا اندھا دھبا، اس کے بعد سر درد | اورا کے ساتھ مائیگرین | پہلی بار ہو یا بار بار، ڈاکٹر سے بات کریں |
دھندلی نظر، روشنیوں کے گرد دائرے، آنکھ کا شدید درد، متلی یا قے | ایکیوٹ اینگل کلوژر گلوکوما | فوراً ہنگامی طبی امداد لیں |
نظر کے سامنے اچانک پردہ یا سایہ، ساتھ جھماکے یا نئے فلوٹرز | ریٹینا کا پھٹنا یا الگ ہو جانا | فوراً آنکھوں کے ماہر کو دکھائیں |
اچانک نظر چلی جانا، آنکھ کا شدید درد، نئی اعصابی علامات یا نظر کے سامنے پردے جیسا سایہ، ان میں سے کسی کو گھر بیٹھ کر یہ دیکھنے کے لیے نہ چھوڑیں کہ ٹھیک ہوتا ہے یا نہیں۔ ان میں فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔
دھندلی نظر کب ہنگامی علاج مانگتی ہے
نظر کی کچھ تبدیلیوں کا فوری معائنہ ضروری ہوتا ہے، کیونکہ ان میں ریٹینا، آپٹک نرو، دماغ یا آنکھ کے گہرے حصے متاثر ہوتے ہیں۔ درج ذیل میں سے کچھ بھی ہو تو فوراً ہنگامی طبی امداد لیں:
نظر کا اچانک چلے جانا یا بہت کم ہو جانا
ایک آنکھ کی نظر اچانک تاریک ہو جائے، سرمئی پڑ جائے یا غائب ہو جائے تو یہ ریٹینا کو خون کی سپلائی رکنے یا آنکھ کی کسی اور سنگین بیماری کی نشانی ہے۔
نظر کے سامنے پردہ یا سایہ
روشنی کے نئے جھماکے، فلوٹرز میں اچانک اضافہ، یا نظر کے دائرے میں کالے پردے کا سرکنا ریٹینا کے پھٹنے یا الگ ہو جانے کی وارننگ ہے۔
نظر کی تبدیلی کے ساتھ اعصابی علامات
دھندلی یا دوہری نظر کے ساتھ چہرے کا ڈھلک جانا، کمزوری، سن ہونا، الجھن یا بولنے میں دشواری عموماً فالج (اسٹروک) کی نشانی ہے اور فوری ہنگامی معائنہ مانگتی ہے۔
کیمیکل پڑنا یا آنکھ پر شدید چوٹ
کیمیکل کے چھینٹے، آنکھ کے اندر گھسنے والی چوٹ، تیز رفتاری سے آنے والی کوئی چیز یا آنکھ پر زور دار ضرب، ان سب میں فوری علاج ضروری ہے۔ کیمیکل پڑ جائے تو طبی مدد کا بندوبست کرتے ہوئے آنکھ کو فوراً صاف پانی کی وافر مقدار سے دھوئیں۔
نظر کی اچانک علامات پر فوراً عمل کریں۔ یہ دیکھنے کے لیے رکنا کہ ٹھیک ہوتی ہیں یا نہیں، ان بیماریوں کے علاج میں تاخیر کا خطرہ ہے جن میں جلد علاج نظر کو اور بعض اوقات مجموعی صحت کو بچاتا ہے۔
دی ماڈرن ہسپتال میں آنکھوں کی دیکھ بھال
دھندلی نظر اکثر ایسے سوال چھوڑ جاتی ہے جن کا جواب خود ڈھونڈنا مشکل ہوتا ہے:
کیا چشمے کا نمبر بدل گیا ہے؟
کیا ذیابیطس آنکھوں کو متاثر کر رہی ہے؟
کیا یہ جھماکے یا فلوٹرز سنجیدہ ہیں؟
کیا مسئلہ وقتی ہے یا علاج مانگتا ہے؟
دی ماڈرن ہسپتال میں ہمارے آنکھوں کے ماہر ڈاکٹر روزانہ ایسے ہی سوالوں کے جواب دیتے ہیں۔ وہ آپ کی علامات سنتے ہیں، یہ دیکھتے ہیں کہ مسئلہ کیسے بڑھا، اور آپ کی آنکھوں کا معائنہ کر کے وجہ تلاش کرتے ہیں اور سمجھاتے ہیں کہ اس کا آپ کی نظر پر کیا مطلب ہے۔ ہمارے آنکھوں کے ماہرین سے مشورے میں یہ سب شامل ہے:
نظر کی تیزی اور چشمے کے نمبر کا ٹیسٹ
قرنیہ اور قدرتی لینس کا معائنہ
آنکھ کے دباؤ کی پیمائش
ریٹینا اور آپٹک نرو کا معائنہ
اگر معائنہ گلوکوما، ریٹینا کی بیماری، ذیابیطس سے متعلق تبدیلیوں یا آنکھ کی کسی اور بیماری کی طرف اشارہ کرے تو اضافی ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں تاکہ مرض کی صحیح نشاندہی ہوسکے۔
ذیابیطس کے مریضوں کے لیے ہماری ڈائبیٹالوجی اور آنکھوں کے شعبے کی ٹیمیں مل کر شوگر کنٹرول اور ریٹینا کی صحت دونوں پر کام کرتی ہیں، تاکہ آپ کو پوری تصویر ملے کہ ذیابیطس آپ کی نظر پر کیا اثر ڈال رہی ہے۔
اگر نظر کی تبدیلیاں آپ کو پریشان کر رہی ہیں، روزمرہ کام مشکل بنا رہی ہیں، یا آپ کو سمجھ نہیں آ رہا کہ کیا ہو رہا ہے، تو ہماری ٹیم آپ کی بات سنجیدگی سے سنتی ہے اور نتائج سادہ اور واضح زبان میں سمجھاتی ہے۔ اپائنٹمنٹ یا طبی معلومات کے لیے دی ماڈرن ہسپتال کو 021-111-864-864 پر کال کریں۔
اپنی نظر کی تبدیلیوں کو برحق توجہ دیں
جب تک گزارا ہو رہا ہو، دھندلی نظر کو ٹالنا آسان ہوتا ہے۔ آپ تھوڑی زیادہ آنکھیں سکیڑ لیتے ہیں، اسکرین کے قریب ہو جاتے ہیں، رات کو گاڑی چلانے سے بچتے ہیں، اور اپنے کام کا طریقہ بدلتے رہتے ہیں، مگر یہ نہیں پوچھتے کہ نظر بدلی کیوں۔
اگر دھندلاہٹ مستقل ہے، بار بار لوٹ آتی ہے یا روزمرہ زندگی میں رکاوٹ بننے لگی ہے تو اب آنکھوں کا معائنہ کروانے کا وقت ہے۔
دی ماڈرن ہسپتال میں ہمارے آنکھوں کے ڈاکٹر روز دھندلی نظر کے مریض دیکھتے ہیں۔ ہم آپ کی علامات سنتے ہیں، آنکھوں کا تفصیلی معائنہ کرتے ہیں اور نتائج آسان زبان میں بتاتے ہیں تاکہ آپ جان سکیں کہ آپ کی نظر کو کیا مسئلہ ہے اور آگے کیا کرنا ہے۔
اچانک نظر چلی جانے، آنکھ کے شدید درد، نئی کمزوری یا بولنے میں دشواری، شدید چوٹ یا کیمیکل پڑ جانے کی صورت میں فوراً ہنگامی طبی امداد لیں۔
مستقل یا بار بار دھندلی نظر کے لیے دی ماڈرن ہسپتال میں آنکھوں کے معائنے کی اپائنٹمنٹ 021-111-864-864 پر کال کر کے بک کریں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
کیا ہائی بلڈ پریشر سے نظر دھندلی ہوتی ہے؟
بہت زیادہ بلڈ پریشر ریٹینا کی خون کی نالیوں کو متاثر کرتا ہے اور نظر میں تبدیلی لاتا ہے۔ بلڈ پریشر بہت بڑھا ہوا ہو اور ساتھ اچانک دھندلی نظر، شدید سر درد، الجھن، سینے میں درد، کمزوری یا دوسری شدید علامات ہوں تو فوری طبی معائنہ ضروری ہے۔
کیا دھندلی نظر کا مطلب ہے کہ مجھے زیادہ نمبر کا چشمہ چاہیے؟
چشمے کے نمبر کی تبدیلی دھندلا نظر آنے کی وجوہات میں سے ایک عام وجہ ہے۔ آنکھوں کی خشکی، موتیا، شوگر کی تبدیلی، مائیگرین اور ریٹینا کی بیماریاں بھی نظر کی صفائی کو متاثر کرتی ہیں، اس لیے مستقل دھندلاہٹ میں آنکھوں کا مکمل معائنہ ضروری ہے۔
گھنٹوں لیپ ٹاپ یا فون استعمال کرنے کے بعد نظر دھندلی کیوں ہو جاتی ہے؟
اسکرین کے طویل استعمال سے پلک جھپکنے کی تعداد بھی کم ہوتی ہے اور جھپکنا مکمل بھی نہیں ہوتا۔ آنسوؤں کی تہہ تیزی سے خشک ہوتی ہے، قرنیہ کی سطح پر خشک حصے بن جاتے ہیں جو نظر کی صفائی بگاڑ دیتے ہیں اور دن بھر آنکھوں کی جلن بڑھاتے ہیں۔
کیا پانی کی کمی یا غذائی کمی نظر کو متاثر کرتی ہے؟
پانی کی کمی آنکھوں کی خشکی اور آنسوؤں کی تہہ کے بگاڑ کو بڑھا دیتی ہے، جس سے نظر وقتی طور پر بدلتی رہتی ہے۔ کچھ غذائی کمیاں بھی آنکھوں کی صحت پر اثر ڈالتی ہیں۔ مثال کے طور پر وٹامن اے کی شدید کمی آنکھ کی سطح کو نقصان پہنچاتی ہے اور رات کی نظر متاثر کرتی ہے۔ مسلسل نظر کی علامات ہوں تو بغیر تصدیق شدہ کمی کے سپلیمنٹس لینے کے بجائے ڈاکٹر سے معائنہ کروائیں۔
