مواد پر جائیں
موتیا کی علامات: ابتدائی نشانیاں اور آنکھوں کا معائنہ کب ضروری ہے؟

موتیا کی علامات: ابتدائی نشانیاں اور آنکھوں کا معائنہ کب ضروری ہے؟

Dr Shoaib Khan Babarامراضِ چشم

موتیا کی عام علامات، ابتدائی نشانیاں، دھندلا نظر آنے کی وجوہات اور علاج کے لیے آنکھوں کے ماہر سے کب رجوع کرنا چاہیے، جانیں۔

اہم باتیں

  • موتیا کی علامات عموماً آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی ہیں اور لینز زیادہ دھندلا ہونے کے ساتھ زیادہ واضح ہونے لگتی ہیں۔

  • عام علامات میں نظر دھندلی ہونا، تیز روشنی چبھنا، روشنی کے گرد حلقے نظر آنا، رات میں دیکھنے میں مشکل، رنگ پھیکے لگنا اور چشمے کا نمبر بار بار بدلنا شامل ہیں۔

  • عمر بڑھنے کے ساتھ موتیا زیادہ عام ہو جاتا ہے، لیکن یہ دوسری وجوہات سے بھی ہو سکتا ہے۔

  • صرف نظر دھندلی ہونے سے موتیا کی تصدیق نہیں ہوتی، کیونکہ کئی دوسری آنکھوں کی بیماریاں بھی یہی علامت پیدا کر سکتی ہیں۔

  • آنکھوں کے معائنے سے معلوم کیا جا سکتا ہے کہ نظر موتیا کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے یا کسی دوسری آنکھ کی بیماری سے۔

  • موتیا کی سرجری پر عموماً اس وقت غور کیا جاتا ہے جب پڑھنے، ڈرائیونگ، کام یا روزمرہ سرگرمیوں میں واضح مشکل ہونے لگے۔

طبی وضاحت: یہ مضمون دی ماڈرن ہسپتال کی جانب سے عمومی صحت کی آگاہی اور معلومات کے لیے ہے۔ اس کا مقصد موتیا یا 

کسی دوسری آنکھ کی بیماری کی تشخیص کرنا نہیں اور نہ ہی یہ کسی مستند طبی ماہر کے معائنے، تشخیص یا علاج کے مشورے کا متبادل ہے۔ اگر نظر مسلسل خراب ہو رہی ہو، اچانک تبدیلی آئے یا علامات بڑھ رہی ہوں تو آنکھوں کا معائنہ ضرور کروائیں۔

کیا گاڑیوں کی ہیڈلائٹس پہلے سے زیادہ تیز یا چبھتی ہوئی محسوس ہوتی ہیں؟

کیا رنگ پھیکے لگنے لگے ہیں، پڑھنے میں مشکل ہو رہی ہے یا چشمہ پہلے جیسی صاف نظر نہیں دے رہا؟

یہ موتیا کی علامات ہو سکتی ہیں۔ موتیا میں آنکھ کا قدرتی لینز آہستہ آہستہ دھندلا ہونے لگتا ہے، جس سے یہ مسائل سامنے آ سکتے ہیں

  • نظر دھندلی ہونا

  • تیز روشنی چبھنا

  • رات میں دیکھنے میں مشکل

  • رنگ پھیکے نظر آنا

  • چشمے کا نمبر بار بار بدلنا

لیکن نظر دھندلی یا بدلتی ہوئی محسوس ہونے کا مطلب لازماً موتیا نہیں۔ کئی دوسری آنکھوں کی بیماریاں بھی یہی علامات پیدا کر سکتی ہیں، اور اصل وجہ معلوم کرنے کا قابل اعتماد طریقہ آنکھوں کا معائنہ ہے۔

اس مضمون میں آپ موتیا کی ابتدائی علامات، نظر پر اس کے اثرات، آنکھوں کے معائنے کی ضرورت اور موتیا کی سرجری کے مناسب وقت کے بارے میں جانیں گے۔

موتیا اور نظر دھندلی ہونے کی دوسری وجوہات

نظر دھندلی ہونے کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ علامات کس طرح شروع ہوئیں اور وقت کے ساتھ کیسے بدل رہی ہیں، اس سے آنکھوں کے ڈاکٹر کو وجہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ موتیا میں عموماً نظر آہستہ آہستہ کم صاف ہوتی ہے، تیز روشنی زیادہ چبھتی ہے، رات میں دیکھنا مشکل ہوتا ہے اور رنگ پہلے کے مقابلے میں پھیکے لگ سکتے ہیں۔ دوسری آنکھوں کی بیماریاں نظر کو مختلف انداز میں متاثر کرتی ہیں۔

آنکھ کی کیفیت

کیا محسوس ہو سکتا ہے

عموماً کیسے بڑھتی ہے

اہم اشارے

موتیا

دھندلی یا دھواں سی نظر، تیز روشنی چبھنا، روشنی کے گرد حلقے، پھیکے رنگ

مہینوں یا سالوں میں آہستہ آہستہ

ہیڈلائٹس، رات میں دیکھنے اور رنگوں کے فرق میں بڑھتی ہوئی مشکل

ریفریکٹو ایرر

کسی خاص فاصلے پر نظر دھندلی ہونا

مستحکم رہ سکتا ہے یا وقت کے ساتھ بدل سکتا ہے

صحیح چشمے کے نمبر سے نظر عموماً بہتر ہو جاتی ہے

گلوکوما

شروع میں اکثر بہت کم علامات؛ بعد میں اطراف کی نظر کم ہو سکتی ہے

عموماً آہستہ آہستہ

آپٹک نرو، آنکھ کے دباؤ اور دوسرے گلوکوما ٹیسٹس سے تبدیلی پکڑی جاتی ہے

ڈائبیٹک ریٹینوپیتھی

نظر دھندلی ہونا، فلوٹرز، سیاہ حصے یا نظر میں ٹیڑھا پن

ریٹینا کے نقصان کی شدت کے مطابق

ذیابیطس کی وجہ سے ریٹینا کی خون کی نالیوں میں تبدیلی سے متعلق

آنکھوں کی خشکی

نظر کا کبھی صاف اور کبھی دھندلا ہونا، جلن، ریت جیسا احساس یا پانی آنا

دن کے دوران بدل سکتی ہے

پلک جھپکنے کے بعد کچھ دیر کے لیے نظر صاف ہو سکتی ہے

اگر نظر مسلسل دھندلی رہنے لگے یا وقت کے ساتھ مزید خراب ہو تو آنکھوں کا معائنہ کروائیں۔ ڈاکٹر لینز، ریٹینا، آپٹک نرو، آنکھ کی سطح اور چشمے کے نمبر کا جائزہ لے کر وجہ معلوم کرتا ہے اور اگلا مناسب قدم تجویز کرتا ہے۔

موتیا کے خطرے کے عوامل

عمر کے ساتھ موتیا زیادہ عام ہو جاتا ہے۔ اس کے علاوہ صحت اور طرزِ زندگی سے متعلق کچھ عوامل لینز کو نسبتاً جلد یا تیزی سے دھندلا کرنے میں کردار ادا کر سکتے ہیں۔

الٹرا وائلٹ شعاعوں کا طویل عرصے تک سامنا

کئی سال تک الٹرا وائلٹ شعاعوں کا سامنا لینز میں تبدیلیاں پیدا کر سکتا ہے۔ باہر جاتے وقت UV سے بچانے والے چشمے، ٹوپی یا مناسب سایہ آنکھوں کو براہ راست شعاعوں سے بچانے میں مدد دیتے ہیں۔

ذیابیطس

خون میں شوگر کی بلند سطح موتیا کے زیادہ خطرے سے جڑی ہوئی ہے۔ ذیابیطس ریٹینا کو بھی نقصان پہنچا سکتی ہے، اس لیے ذیابیطس کے مریضوں کے لیے باقاعدہ آنکھوں کا معائنہ خاص طور پر اہم ہے۔

کورٹیکوسٹیرائڈ ادویات کا طویل استعمال

کورٹیکوسٹیرائڈ ادویات کا لمبے عرصے تک استعمال بعض اقسام کے موتیا، خاص طور پر پوسٹیریئر سب کیپسولر کیٹریکٹ، سے جڑا ہوا ہے۔ اگر کسی مستقل بیماری کے لیے اسٹیروئڈ ادویات استعمال ہو رہی ہوں تو ڈاکٹر کی دی ہوئی نگرانی کی ہدایات پر عمل کریں۔

پہلے کی آنکھ کی چوٹ یا سوزش

آنکھ پر چوٹ یا آنکھ کے اندر پہلے ہونے والی سوزش لینز کو نقصان پہنچا سکتی ہے اور بعد میں موتیا بننے میں کردار ادا کر سکتی ہے۔

موتیا اور بڑی عمر میں روزمرہ زندگی

عمر بڑھنے کے ساتھ صاف نظر روزمرہ خودمختاری برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، مثلاً:

  • ادویات کے لیبل پڑھنا

  • ڈرائیونگ

  • سیڑھیاں استعمال کرنا

  • کھانا تیار کرنا

  • چہرے پہچاننا

  • نئی یا غیر مانوس جگہوں پر اعتماد سے چلنا

نظر آہستہ آہستہ کمزور ہو تو انسان اکثر اپنی زندگی اس کے مطابق بدل لیتا ہے اور اسے اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ معمول کتنا بدل چکا ہے۔ آپ رات کی ڈرائیونگ چھوڑ سکتے ہیں، چھوٹی تحریر کسی اور سے پڑھوانے لگتے ہیں، زیادہ روشن لائٹ استعمال کرتے ہیں یا اندھیرے میں باہر چلتے وقت کم پراعتماد محسوس کر سکتے ہیں۔

اسی لیے بڑی عمر میں آنکھوں کی دیکھ بھال اہم ہے۔ آنکھوں کے معائنے سے معلوم ہو سکتا ہے کہ روزمرہ نظر موتیا، چشمے کے نمبر میں تبدیلی یا کسی دوسری آنکھ کی بیماری کی وجہ سے متاثر ہو رہی ہے۔

موتیا کے لیے آنکھوں کے معائنے میں کیا ہوتا ہے؟

جب چشمہ پہلے جیسی صاف نظر نہ دے تو مکمل آنکھوں کا معائنہ صرف نمبر چیک کرنے تک محدود نہیں رہتا۔ ڈاکٹر آنکھ کے ان حصوں کو بھی دیکھتا ہے جو نظر پر اثر ڈالتے ہیں۔ عام طور پر یہ ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں:

نظر کی جانچ

اس سے معلوم کیا جاتا ہے کہ مختلف فاصلے پر آپ کتنی صاف دیکھ سکتے ہیں اور نظر میں کمی کتنی ہے۔

سلٹ لیمپ معائنہ

سلٹ لیمپ سے ڈاکٹر کورنیا، آئرس اور قدرتی لینز کو قریب سے دیکھ سکتا ہے۔ اس معائنے سے لینز کی دھندلاہٹ، اس کی جگہ اور شدت کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔

آنکھوں کا تفصیلی معائنہ

آئی ڈراپس سے پُتلی کو بڑا کیا جاتا ہے تاکہ ریٹینا، میکیولا اور آپٹک نرو کو زیادہ تفصیل سے دیکھا جا سکے۔ اس سے ایسی دوسری بیماریوں کا بھی پتہ چل سکتا ہے جو نظر کو متاثر کر رہی ہوں۔

آنکھ کے دباؤ کی جانچ

آنکھ کے اندر دباؤ چیک کیا جاتا ہے، خاص طور پر جب گلوکوما یا دباؤ سے متعلق کسی دوسری بیماری کو دیکھنا ضروری ہو۔

ان تمام نتائج سے ڈاکٹر کو معلوم ہوتا ہے کہ موتیا نظر کو کتنا متاثر کر رہا ہے اور کیا کوئی دوسری آنکھ کی بیماری بھی ساتھ موجود ہے۔

اگر موتیا ابھی ہلکا ہو تو ڈاکٹر صرف نظر پر نظر رکھنے یا چشمے کا نمبر تبدیل کرنے کا مشورہ دے سکتا ہے۔ جب پڑھنے، ڈرائیونگ، کام یا روزمرہ سرگرمیوں میں واضح مشکل ہونے لگے تو مزید علاج پر بات کی جاتی ہے۔

موتیا کی سرجری کب زیر غور آتی ہے؟

اگر موتیا ابھی ہلکا ہو اور چشمے، بہتر روشنی یا معمول میں چھوٹی تبدیلیوں کے ساتھ نظر مناسب ہو تو ڈاکٹر کچھ عرصہ صرف اس پر نظر رکھنے کا مشورہ دے سکتا ہے۔

سرجری پر اس وقت بات کرنا مناسب ہوتا ہے جب موتیا ان کاموں میں رکاوٹ ڈالنے لگے جو آپ کے لیے اہم ہیں، جیسے پڑھنا، ڈرائیونگ، کھانا بنانا، کام کرنا، چہرے پہچاننا یا محفوظ طریقے سے چلنا پھرنا۔

کچھ لوگ یہ سوچ کر آنکھوں کا معائنہ مؤخر کرتے ہیں کہ موتیا پہلے “پکنا” چاہیے۔ جدید موتیا کی سرجری میں اس بات کا انتظار ضروری نہیں کہ نظر بہت زیادہ خراب ہو جائے۔ مناسب وقت اس بات سے طے ہوتا ہے کہ موتیا آپ کی نظر اور روزمرہ زندگی کو کتنا متاثر کر رہا ہے۔

آئی ڈراپس، سپلیمنٹس، ہربل ریمیڈیز یا سرمہ جیسے روایتی طریقے دھندلے لینز کو دوبارہ صاف نہیں کر سکتے۔ جب موتیا اتنا بڑھ جائے کہ علاج ضروری ہو تو دھندلے لینز کو نکالنے کا مؤثر علاج سرجری ہے۔

موتیا کی سرجری میں کیا ہوتا ہے؟

جدید موتیا کی سرجری میں دھندلا قدرتی لینز نکال کر اس کی جگہ ایک صاف مصنوعی لینز لگایا جاتا ہے، جسے اِنٹرا آکیولر لینز یا IOL کہا جاتا ہے۔

ایک عام طریقہ فیکوایمولسیفیکیشن ہے۔ اس میں سرجن بہت چھوٹے چیرا کے ذریعے دھندلے لینز کو باریک حصوں میں توڑ کر نکالتا ہے اور پھر مصنوعی لینز لگا دیتا ہے۔

موتیا کی سرجری عموماً اسی دن ہونے والا طریقہ کار ہے، لیکن صحت یابی اور دوبارہ معائنے کا منصوبہ آنکھ کی حالت، موتیا کی قسم اور ڈاکٹر کے معائنے کے مطابق مختلف ہو سکتا ہے۔

سرجری تجویز کرنے سے پہلے ماہرِ چشم دیکھتا ہے کہ موتیا نظر کو کتنا متاثر کر رہا ہے، آنکھ کے باقی حصوں کا معائنہ کرتا ہے اور آپ کے لیے سرجری مناسب ہونے پر بات کرتا ہے۔

دی ماڈرن ہسپتال میں موتیا کا معائنہ اور آنکھوں کی دیکھ بھال

نظر میں تبدیلی صرف آئی چارٹ پڑھنے کا مسئلہ نہیں رہتی۔ آپ رات کو ڈرائیونگ چھوڑ سکتے ہیں، موبائل کے پیغامات پڑھنے میں مشکل محسوس کر سکتے ہیں، سیڑھیوں پر ہچکچاہٹ ہو سکتی ہے یا ایسے کاموں کے لیے دوسروں پر انحصار بڑھ سکتا ہے جو پہلے آسان تھے۔

دی ماڈرن ہسپتال میں ان تبدیلیوں کا مناسب معائنہ کروایا جا سکتا ہے تاکہ بگڑتی ہوئی نظر کے مطابق مسلسل اپنی زندگی بدلنے کے بجائے اصل وجہ معلوم کی جا سکے۔

کنسلٹیشن میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ آپ نے کیا تبدیلی محسوس کی، نظر کیسے بدلی اور روزمرہ سرگرمیوں پر اس کا کیا اثر ہے۔ پھر آنکھوں کا معائنہ یہ واضح کرتا ہے کہ وجہ موتیا ہے یا کسی دوسری آنکھ کی بیماری کو بھی توجہ چاہیے۔

اگر موتیا ابتدائی مرحلے میں ہو تو ڈاکٹر بتا سکتا ہے کہ اس پر کس طرح نظر رکھنی ہے۔ اگر وہ روزمرہ زندگی میں رکاوٹ بننے کی حد تک بڑھ چکا ہو تو علاج اور سرجری کے مناسب وقت پر بات کی جا سکتی ہے۔

اپائنٹمنٹ لینے سے پہلے یہ جاننا ضروری نہیں کہ موتیا کتنا بڑھ چکا ہے۔ اگر نظر دھندلی ہونے لگی ہے، تیز روشنی کی وجہ سے رات کی ڈرائیونگ مشکل ہے یا چشمہ پہلے جیسی صاف نظر نہیں دے رہا تو آنکھوں کا معائنہ کروانے کی کافی وجہ موجود ہے۔

اپائنٹمنٹ یا معلومات کے لیے دی ماڈرن ہسپتال کو 021-111-864-864 پر کال کریں۔

نظر میں تبدیلی کب توجہ چاہتی ہے؟

جب نظر آہستہ آہستہ بدلتی ہے تو انسان اکثر غیر محسوس طریقے سے اپنی زندگی اس کے مطابق ڈھال لیتا ہے۔ سورج غروب ہونے کے بعد ڈرائیونگ چھوڑ دینا، فون کی تحریر بڑی کرنا، ٹی وی کے قریب بیٹھنا، چھوٹی تحریر کسی اور سے پڑھوانا یا پہلے سے زیادہ روشن لائٹ استعمال کرنا معمول بن سکتا ہے۔

وقت کے ساتھ یہی چھوٹی تبدیلیاں ان سرگرمیوں کو محدود کرنے لگتی ہیں جو کبھی آسان تھیں۔

اگر نظر دھندلی ہونا، تیز روشنی چبھنا، رات میں دیکھنے کی مشکل یا رنگ پھیکے لگنا آپ کے جینے کے انداز کو بدل رہا ہے تو مدد لینے کے لیے نظر کے بہت زیادہ خراب ہونے کا انتظار ضروری نہیں۔

دی ماڈرن ہسپتال کے شعبۂ چشم سے اپنی محسوس کی ہوئی تبدیلیوں کے بارے میں بات کی جا سکتی ہے۔ آنکھوں کا معائنہ بتا سکتا ہے کہ وجہ موتیا ہے یا نہیں، نظر کتنی متاثر ہے اور آگے کیا کیا جا سکتا ہے۔

کبھی صرف آنکھوں پر نظر رکھنا درست اگلا قدم ہوتا ہے، کبھی چشمے کا نیا نمبر کافی ہوتا ہے، اور جب موتیا کافی بڑھ جائے تو ماہرِ چشم سرجری کے ذریعے روزمرہ نظر بہتر کرنے کے امکان پر بات کر سکتا ہے۔

اگر نظر پہلے جیسی صاف یا آرام دہ نہیں رہی تو آنکھوں کے معائنے کے لیے دی ماڈرن ہسپتال کو 021-111-864-864 پر کال کریں۔

عام سوالات

کیا نوجوان افراد یا بچوں میں بھی موتیا ہو سکتا ہے؟

جی ہاں۔ موتیا عمر کے ساتھ زیادہ عام ہوتا ہے، لیکن یہ پیدائش سے بھی موجود ہو سکتا ہے یا آنکھ کی چوٹ، بعض آنکھوں کی بیماریوں، ذیابیطس یا طویل عرصے تک کورٹیکوسٹیرائڈ استعمال کے بعد کم عمر میں بن سکتا ہے۔

کیا سرجری سے پہلے موتیا کے مکمل پکنے کا انتظار ضروری ہ

نہیں۔ جب موتیا نظر کو اتنا متاثر کرنے لگے کہ روزمرہ سرگرمیوں میں رکاوٹ ہو تو سرجری پر غور کیا جا سکتا ہے۔ ماہرِ چشم نظر، آنکھ کی صحت اور انفرادی ضرورت کے مطابق مناسب وقت تجویز کرتا ہے۔

کیا سرجری کے بعد موتیا واپس آ سکتا ہے؟

اصل موتیا واپس نہیں آتا کیونکہ دھندلا قدرتی لینز نکال دیا جاتا ہے۔ بعض لوگوں میں بعد میں پوسٹیریئر کیپسول اوپیسیفیکیشن ہو سکتی ہے، جس میں مصنوعی لینز کے پیچھے موجود جھلی دھندلی ہو جاتی ہے اور نظر دوبارہ دھندلی محسوس ہونے لگتی ہے۔

موتیا کی علامات کتنی تیزی سے بڑھتی ہیں؟

رفتار ہر شخص میں مختلف ہوتی ہے۔ عمر سے متعلق موتیا اکثر کئی سال میں آہستہ آہستہ بڑھتا ہے، جبکہ کچھ اقسام عمومی صحت، ادویات یا آنکھ کے پچھلے مسائل کے مطابق نسبتاً تیزی سے بھی بڑھ سکتی ہیں۔