مواد پر جائیں
ڈینگی میں کیا کھائیں اور کیا پئیں: مفید مشورے اور عام غلط فہمیاں

ڈینگی میں کیا کھائیں اور کیا پئیں: مفید مشورے اور عام غلط فہمیاں

Dr Sobiaمتعدی امراض

جب گھر میں کسی کو ڈینگی ہو جائے، تو فکر کافی بڑھ جاتی ہے۔ بخار کبھی چڑھتا ہے، کبھی اترتا ہے، جسم میں درد رہتا ہے، اور لیب رپورٹس کا انتظار الگ۔ ایسے میں ہر گھر والا ایک ہی سوال پوچھتا ہے:

مریض کو کھانے میں کیا دیں؟

سب سے پہلے ڈاکٹر کا چیک اپ ضروری ہے۔ لیکن گھر پر صحیح کھانا اور جسم میں پانی پورا رکھنا بھی علاج کا بہت اہم حصہ ہے۔

تحقیق کے مطابق وائرل بخار میں شروع سے ہی کھانے پینے کا صحیح خیال رکھا جائے تو مریض جلدی ٹھیک ہوتا ہے، اور ہسپتال میں رہنے کا وقت 25 فیصد تک کم ہو سکتا ہے۔ اسی لیے گھر والوں کے ذہن میں یہ سوال آتے ہیں:

مریض کیا کھائے؟

کیا پیے؟

کیا کوئی چیز جلدی ٹھیک ہونے میں مدد کرتی ہے؟

اس گائیڈ میں انہی سوالوں کے آسان جواب ہیں، تاکہ آپ گھر پر مریض کا صحیح خیال رکھ سکیں اور ساتھ ساتھ ڈینگی کی علامات پر بھی نظر رکھ سکیں۔

کھانا ڈینگی میں کیا کر سکتا ہے اور کیا نہیں

اگر یہ پہلے سے پتا ہو کہ کھانا کس حد تک مدد کر سکتا ہے، تو مریض اور گھر والوں دونوں کی پریشانی کم ہو جاتی ہے۔

طاقت دیتا ہے

ہلکا اور مناسب کھانا جسم کو اتنی طاقت دیتا ہے کہ مریض آرام سے لیٹا رہ سکے۔

پانی کی کمی سے بچاتا ہے

بخار اور پسینے میں جسم سے جو پانی اور نمکیات نکل جاتے ہیں، وہ مشروبات سے پورے ہوتے ہیں۔

معدے کو آرام دیتا ہے

نرم اور ہلکا کھانا معدہ خراب ہونے اور متلی سے بچاتا ہے۔

ڈینگی کا علاج نہیں کرتا

اچھا کھانا جسم کو طاقت تو دیتا ہے، لیکن کوئی بھی کھانا، پھل یا جوس وائرس ختم نہیں کر سکتا، اور نہ ہی پلیٹلیٹس فوراً بڑھا سکتا ہے۔

ڈاکٹر کی جگہ نہیں لے سکتا

اگر مریض کی حالت خراب ہو رہی ہو اور آپ صرف گھریلو ٹوٹکوں پر بھروسہ کریں، تو ڈاکٹر تک پہنچنے میں خطرناک دیر ہو سکتی ہے۔

یہ باتیں ذہن میں رکھیں تو آپ مریض کے آرام پر دھیان دے سکیں گے اور بے فائدہ ٹوٹکوں سے بچ سکیں گے۔ اگر کھانے کا پلان بنانے میں مدد چاہیے، تو نیوٹریشن اینڈ فٹنس ایکسپرٹ سے مشورہ کریں۔

بھوک نہ لگے تو کیا کھلائیں؟

بخار شروع ہونے کے ابتدائی دنوں میں بھوک نہ لگنا اور متلی ہونا بہت عام ہے۔ مریض کو زبردستی کھانا کھلانے کی کوشش نہ کریں۔ ایسا کرنے سے اکثر الٹی یا بدہضمی ہو جاتی ہے۔ اس کے بجائے، تھوڑا تھوڑا کر کے بار بار ہلکا گھر کا کھانا دیں:

کھچڑی اور چاول

مونگ کی دال والی نرم کھچڑی یا سادہ چاول آسانی سے ہضم ہو جاتے ہیں اور معدے کو تنگ نہیں کرتے۔

یخنی اور سوپ

جب روٹی یا چاول کھانے کا دل نہ کرے، تو گرم چکن یا سبزی کی یخنی آسانی سے پی جاتی ہے اور طاقت بھی دیتی ہے۔

سادہ دہی

تازہ دہی معدے کو ٹھنڈک دیتا ہے اور ہاضمے کے لیے اچھا ہے۔

کیلا اور ابلے ہوئے پھل

پکا ہوا کیلا آسانی سے کھایا اور ہضم کیا جاتا ہے، اور بخار اور پسینے میں نکلنے والا پوٹاشیم بھی پورا کرتا ہے۔

نرم ابلا انڈا

جب مریض تھوڑا بہتر محسوس کرنے لگے، تو نرم ابلا انڈا دیں۔ اس سے پروٹین ملتی ہے جو ٹھیک ہونے میں مدد کرتی ہے۔

پتلی دال

اچھی طرح پکی پتلی دال، کم تیل اور کم مصالحے کے ساتھ، ہلکی بھی ہے اور طاقت بھی دیتی ہے۔

مقصد یہ ہے کہ مریض کچھ نہ کچھ کھاتا رہے۔ لیکن اگر بھوک بالکل ختم ہو جائے، یا مریض 24 گھنٹے سے زیادہ کچھ بھی کھا کر پیٹ میں نہ رکھ سکے، تو جلد از جلد ڈاکٹر کو دکھائیں۔

پانی کی کمی سے کیسے بچائیں

ڈینگی میں گھر پر سب سے ضروری کام مریض کے جسم میں پانی پورا رکھنا ہے۔ تیز بخار میں پسینے سے جسم کا پانی بہت جلدی نکلتا ہے۔ لیکن کمزوری اور متلی کی وجہ سے مریض کو چند گھونٹ پانی پینا بھی مشکل لگتا ہے۔ اس لیے ان طریقوں سے مدد لیں:

تھوڑا تھوڑا، بار بار پلائیں

پورا گلاس ایک ساتھ دینے کے بجائے ایک کپ مریض کے پاس رکھ دیں، اور ہر 15 سے 20 منٹ بعد دو تین گھونٹ پلاتے رہیں۔

او آر ایس دیں

صاف پانی میں او آر ایس کا پیکٹ ملا کر پلائیں۔ یہ سادہ پانی سے کہیں بہتر طریقے سے جسم کے نمکیات پورے کرتا ہے۔ ہر صبح تازہ او آر ایس بنا لیں۔

ناریل کا پانی دیں

ناریل کا پانی معدے کے لیے ہلکا ہوتا ہے اور اس میں قدرتی نمکیات ہوتے ہیں۔ بخار میں منہ کڑوا ہو تو یہ آسانی سے پیا جاسکتا ہے۔

پیشاب پر نظر رکھیں

دیکھتے رہیں کہ مریض دن میں کتنی بار باتھ روم جا رہا ہے۔ اگر دن میں 4 سے 5 بار صاف یا ہلکے پیلے رنگ کا پیشاب آ رہا ہے، تو جسم میں پانی ٹھیک ہے۔

جوس میں پانی ملا کر دیں

سیب یا انار کے تازہ جوس میں تھوڑا پانی ملا کر دیں۔ اس سے پانی کے ساتھ تھوڑی طاقت بھی ملتی ہے، خاص طور پر جب مریض کھانا نہ کھا پا رہا ہو۔ دن بھر مشروبات دیتے رہنے سے جسم کو وائرس سے لڑنے کی طاقت ملتی ہے۔

اگر بار بار الٹی کی وجہ سے مریض کچھ بھی پی کر پیٹ میں نہیں رکھ پا رہا، تو یہ خطرے کی بات ہے۔ ایسے میں ایمرجنسی کی نشانیوں پر دھیان دیں۔

ان چیزوں سے پرہیز کریں

بخار میں معدہ کمزور اور حساس ہو جاتا ہے۔ سخت پرہیز کی ضرورت نہیں، لیکن معدہ خراب کرنے والی چیزوں سے بچنا مریض کو بہت آرام دیتا ہے۔

تیل والے بھاری سالن

چکنی اور تلی ہوئی چیزیں ہضم ہونے میں دیر لگاتی ہیں اور بدہضمی، پیٹ میں مروڑ اور متلی کر سکتی ہیں۔

تیز مصالحے

تیز مصالحے اور مرچیں معدے میں جلن اور تیزابیت کرتی ہیں۔ بخار میں کھانا ہلکا رکھیں۔

تیز چائے اور کافی

تیز چائے، کافی اور انرجی ڈرنکس سے پیشاب زیادہ آتا ہے، اور جسم کا پانی اور کم ہو سکتا ہے۔

گہرے رنگ کی چیزیں

گہرے لال، جامنی یا گہرے بھورے رنگ کے کھانے اور مشروبات نہ دیں۔ اگر مریض الٹی کرے، تو گہرے رنگ کی وجہ سے پتا نہیں چلتا کہ الٹی میں خون تو نہیں۔

کولڈ ڈرنکس اور ڈبے والے جوس

ان میں بہت زیادہ چینی ہوتی ہے۔ یہ معدہ خراب کر سکتے ہیں اور کوئی فائدہ نہیں دیتے۔

سادہ کھانا معدے کو آرام دیتا ہے۔ اگر گھر کے عام کھانوں کو مریض کے لیے بدلنے میں مدد چاہیے، تو نیوٹریشن اینڈ فٹنس ایکسپرٹ سے مشورہ کریں۔

عام غلط فہمیاں: پپیتے کے پتے، جڑی بوٹیاں اور ٹوٹکے

ڈینگی کا موسم آتے ہی فیملی واٹس ایپ گروپس ٹوٹکوں سے بھر جاتے ہیں۔ پلیٹلیٹس کی فکر میں کوئی جلدی والا حل ڈھونڈنا فطری بات ہے۔ لیکن کسی ایک چیز کو علاج سمجھ لینا خطرناک ہو سکتا ہے:

پپیتے کے پتوں کا جوس

پپیتے کے پتوں کا رس خاصئی مشہور ہے، لیکن ڈاکٹری طور پر یہ ثابت نہیں کہ یہ اس سے ڈینگی کا علاج ممکن ہے۔ یہ جوس بہت کڑوا ہوتا ہے، اور کمزور مریض کو اس سے الٹی، ابکائی اور پیٹ میں مروڑ ہو سکتے ہیں۔

بکری کا دودھ

کہا جاتا ہے کہ بکری کا دودھ فوراً پلیٹلیٹس بڑھاتا ہے۔ لیکن کچا (بغیر ابلا) دودھ پینے سے خطرناک انفیکشن ہو سکتا ہے۔اس بات کا خیال رکھیں کہ مریض کو صاف اور محفوظ چیزیں ہی دی جائیں۔

کوئی ایک "جادوئی" چیز

کوئی پھل، جڑی بوٹی یا "سپر فوڈ" خون سے وائرس ختم نہیں کر سکتا۔ اچھا کھانا جسم کو طاقت دیتا ہے، لیکن باخود علاج نہیں کرسکتا۔

ڈاکٹر کے پاس جانے میں دیر

ٹوٹکوں کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ لوگ ان پر بھروسہ کر کے ڈاکٹر کے پاس جانے میں دیر کر دیتے ہیں، جسکی وجہ سے مریض کی اندرونی حالت خراب ہو رہی ہوتی ہے۔ ٹوٹکے ڈھونڈنے کے بجائے مریض کو پانی پلاتے رہیں اور اس کا خیال رکھیں۔ دیکھتے رہیں کہ مریض کیسا محسوس کر رہا ہے، اور ڈینگی کی علامات پر نظر رکھیں۔

خطرے کی نشانیاں: جب گھر کا علاج کافی نہ ہو

ڈینگی میں سب سے خطرناک وقت اکثر وہ ہوتا ہے جب بخار اترنے لگتا ہے۔ اس وقت بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ مریض ٹھیک ہو رہا ہے، لیکن اصل میں یہی وہ وقت ہے جب اندرونی پیچیدگیاں ہو سکتی ہیں۔ اس وقت مریض پر بہت دھیان دیں۔ ان میں سے کوئی بھی نشانی ہو، تو سمجھ لیں کہ اب گھر کا علاج کافی نہیں:

بار بار الٹی

اگر مریض 12 گھنٹے سے زیادہ پانی یا او آر ایس بھی پیٹ میں نہیں رکھ پا رہا۔

پیٹ میں تیز درد

پیٹ میں تیز درد یا دبانے پر بہت درد ہو۔

کہیں سے خون آنا

مسوڑھوں یا ناک سے خون، جلد پر چھوٹے لال دھبے، یا کالے رنگ کا پاخانہ۔

بہت زیادہ سستی یا بے چینی

مریض بہت زیادہ سونے لگے، بات سمجھ نہ پائے، چڑچڑا ہو جائے، یا اتنا کمزور ہو کہ اٹھ کر بیٹھ بھی نہ سکے۔

سانس لینے میں دشواری

تیز تیز سانس لینا، سانس اکھڑنا، یا سینے میں جکڑن کی شکایت۔

پیشاب بہت کم آنا

6 سے 8 گھنٹے تک پیشاب نہ آئے، یا بہت گہرے رنگ کا آئے۔ یہ جسم میں پانی کی شدید کمی کی نشانی ہے۔

ان میں سے کوئی بھی نشانی ہو، تو انتظار نہ کریں اور مزید کھانا یا مشروبات دینے کی کوشش نہ کریں۔

مریض کو فوراً ماڈرن ہسپتال کی 24 گھنٹے کھلی ایمرجنسی میں لائیں، یا ہماری ایمرجنسی ٹیم سے 021-111-864-864 پر فوراً رابطہ کریں۔

کب ڈاکٹر یا نیوٹریشن ایکسپرٹ سے بات کریں

اگر آپ کو پتا ہو کہ کس وقت کس ڈاکٹر سے بات کرنی ہے، تو ڈینگی میں مریض کو سنبھالنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔

بخار شروع ہوتے ہی

جنرل فزیشن کو دکھائیں۔ وہ ڈینگی کی تصدیق کرے گا، خون کے ٹیسٹ لکھے گا، اور بتائے گا کہ گھر پر کیا احطیاط رکھنی ہے۔

جب مریض پانی نہ پی پا رہا ہو

اگر گلے کی خراش، منہ کی کڑواہٹ یا متلی کی وجہ سے مریض کافی پانی یا مشروبات نہیں پی پا رہا، تو ڈاکٹر سے بات کریں۔

بخار اترنے کے بعد

اگر بخار اتر گیا ہے لیکن کمزوری، تھکن یا بھوک نہ لگنے کی وجہ سے کھانا مشکل ہو رہا ہے، تو نیوٹریشن اینڈ فٹنس ایکسپرٹ سے مشورہ کریں۔ ہر مرحلے پر صحیح تعقید ملنے کی صورت میں ہی آپ مریض کا بہتر خیال رکھ سکتے ہیں۔

آخری بات

ڈینگی کے مریض کا خیال رکھنا چھوٹے چھوٹے کاموں سے ہوتا ہے: ہلکا کھانا دیں، پانی پلاتے رہیں، اور مریض پر نظر رکھیں تاکہ کوئی بھی تبدیلی فوراً پتا چل جائے۔

کھانا طاقت دیتا ہے، لیکن سب سے ضروری یہ دیکھنا ہے کہ مریض پانی اور مشروبات پیٹ میں رکھ پا رہا ہے یا نہیں۔

اگر آپ تسلی کے لیے مریض کو ڈاکٹر کو دکھانا چاہتے ہیں، تو ماڈرن ہسپتال کی ٹیم دن رات آپکی خدمت مں حاضر ہے۔ آپ ہمارے پاس آ سکتے ہیں یا 021-111-864-864 پر فون کر سکتے ہیں۔