مواد پر جائیں
فوڈ پوائزننگ: علامات، وجوہات اور علاج

فوڈ پوائزننگ: علامات، وجوہات اور علاج

TMHامراضِ معدہ و جگر

فوڈ پوائزننگ کی وجوہات

فوڈ پوائزننگ کیا ہے؟

فوڈ پوائزننگ اُس وقت ہوتی ہے جب کوئی شخص ایسی غذا یا پانی استعمال کر لے جو نقصان دہ جراثیم، بیکٹیریا، وائرس یا زہریلے مادوں سے آلودہ ہو۔ جسم کے اندر پہنچنے پر یہ آلودگی ایک قدرتی ردِعمل پیدا کرتی ہے تاکہ اُنہیں خارج کیا جا سکے، عام طور پر قے یا دستوں کی صورت میں۔ بیشتر صورتوں میں یہ تکلیف ایک سے دو دن رہتی ہے اور خود بخود ٹھیک ہو جاتی ہے۔ تاہم چھوٹے بچے، بزرگ اور کمزور قوتِ مدافعت والے افراد میں پانی کی کمی اور پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔


فوڈ پوائزننگ کی علامات

فوڈ پوائزننگ کی علامات وجہ اور شدت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں۔ عام علامات میں پیٹ میں مروڑ، دست، متلی، قے، ہلکا بخار، کمزوری اور سر درد شامل ہیں۔ یہ علامات عموماً اچانک ظاہر ہوتی ہیں اور ہلکی سے شدید تک ہو سکتی ہیں۔


وہ شدید علامات جن میں فوری طبی امداد ضروری ہے

بعض صورتوں میں فوڈ پوائزننگ سنگین ہو سکتی ہے۔ اگر دست تین دن سے زیادہ جاری رہیں یا بخار 102 ڈگری فارن ہائیٹ (38.9 سینٹی گریڈ) سے بڑھ جائے تو فوراً طبی امداد لینی چاہیے۔ بولنے یا دیکھنے میں دشواری، پانی کی شدید کمی کی علامات جیسے منہ کا خشک ہونا، چکر آنا، پیشاب کا بہت کم یا بالکل نہ آنا، یا مائعات کا پیٹ میں نہ ٹھہرنا بھی خطرے کی نشانیاں ہیں۔ پاخانے یا قے میں خون آنا بھی ایک سنگین علامت ہے جس میں فوری علاج ضروری ہے۔


بنیادی وجوہات (لوگ کہاں غلطی کرتے ہیں)

فوڈ پوائزننگ کی سب سے عام وجوہات میں آلودہ پانی شامل ہے، بشمول غیر محفوظ پینے کا پانی، برف یا سڑک کنارے ملنے والے مشروبات۔ ایسا اسٹریٹ فوڈ جو صفائی کے بغیر تیار ہو یا کھلا رکھا ہو، ایک اور بڑا خطرہ ہے۔ کچا یا آدھا پکا گوشت، انڈے یا مرغی کھانا بھی انفیکشن کا سبب بن سکتا ہے۔ کراس کنٹیمینیشن اُس وقت ہوتی ہے جب کچے اور پکے کھانے کے لیے ایک ہی برتن یا سطح استعمال کی جائے، جس سے بیکٹیریا تیزی سے منتقل ہوتے ہیں۔ پکا ہوا کھانا طویل وقت تک عام درجۂ حرارت پر رکھنا بیکٹیریا کو تیزی سے بڑھنے کا موقع دیتا ہے اور بیماری کا خطرہ بڑھا دیتا ہے۔


ہنگامی علاج

فوڈ پوائزننگ کے بیشتر ہلکے واقعات مناسب دیکھ بھال کے ساتھ گھر ہی پر سنبھالے جا سکتے ہیں۔ سب سے اہم بات پانی کی کمی سے بچنا ہے — پانی، صاف یخنی یا او آر ایس تھوڑی تھوڑی مقدار میں بار بار پیجیے۔ سادہ او آر ایس گھر پر بھی بنایا جا سکتا ہے، صاف پانی میں نمک، میٹھا سوڈا اور چینی ملا کر۔ قے میں کمی آنے پر ہلکی اور جلد ہضم ہونے والی غذائیں جیسے کیلا، چاول، سیب کا گودا اور ٹوسٹ آہستہ آہستہ شروع کی جا سکتی ہیں۔ صحت یابی کے دوران کیفین، الکحل، دودھ سے بنی اشیا اور تیل یا مرچ والے کھانوں سے پرہیز ضروری ہے، کیونکہ یہ معدے کو مزید خراب کرتے ہیں۔


فوری طبی امداد کب لینی چاہیے

اگر پانی کی شدید کمی کی علامات ہوں، جیسے پیشاب کا بالکل نہ آنا، چکر آنا یا ذہنی الجھن، تو فوراً طبی امداد لینی چاہیے۔ چوبیس گھنٹے سے زائد مسلسل قے، تیز بخار، یا پاخانے یا قے میں خون آنا سنگین خطرے کی نشانیاں ہیں۔ اعصابی علامات جیسے نظر کا دھندلا ہونا، پٹھوں کی کمزوری یا سنسناہٹ بھی فوری طبی معائنے کا تقاضا کرتی ہیں۔