
ماں کا دودھ کم ہونا: کیا نارمل ہے اور مدد کب لیں؟
ماں بننا زندگی کی سب سے بڑی خوشیوں میں سے ایک ہے۔ لیکن شروع کے دنوں میں سب کچھ نیا ہوتا ہے، اور ساتھ میں بہت سی فکریں بھی آتی ہیں۔ بہت سی ماؤں کی سب سے بڑی فکر یہ ہوتی ہے:
"کیا میرا دودھ بچے کے لیے کافی ہے؟ اور اگر نہیں، تو اسے کیسے بڑھاؤں؟"
ہو سکتا ہے ہر بار دودھ پلانے کے بعد آپ سوچتی ہوں کہ بچہ اب بھی بھوکا تو نہیں۔ یا آپ دوسری ماؤں سے اپنا موازنہ کرتی ہوں۔
لیکن سچ یہ ہے کہ جو چیز دودھ کی کمی لگتی ہے، وہ اکثر دودھ کی کمی ہوتی ہی نہیں۔ بہت سی باتیں جن سے نئی مائیں پریشان ہوتی ہیں، وہ دودھ پلانے کا بالکل عام حصہ ہیں، خاص طور پر پہلے چند ہفتوں میں۔
اس لیے دودھ بڑھانے کے طریقے ڈھونڈنے سے پہلے یہ جان لیں کہ کیا نارمل ہے اور کب واقعی مدد کی ضرورت ہے۔ یہ پتا ہو تو آپ بلاوجہ پریشان نہیں ہوں گی۔
آئیے دیکھتے ہیں کہ کون سی باتیں عام ہیں اور کون سی واقعی فکر کی بات ہیں۔
یہ باتیں بالکل نارمل ہیں
سب سے پہلے یہ جان لیں: دودھ پلانا ہمیشہ ویسا نہیں ہوتا جیسا لوگ سوچتے ہیں۔ بہت سی باتیں جو پریشان کن لگتی ہیں، وہ اصل میں بالکل عام ہیں۔
پہلے چند ہفتوں میں آپ کا جسم ابھی سیکھ رہا ہوتا ہے۔ بچہ جتنا زیادہ دودھ پیے گا، ماں کا جسم اتنا ہی زیادہ دودھ بنائے گا۔ اسی لیے شروع میں کچھ ایسی باتیں ہوتی ہیں جو پہلے سے پتا نہ ہوں تو پریشان کر دیتی ہیں۔ مثلاً نئے بچوں میں یہ بہت عام ہے کہ وہ:
بار بار دودھ پیتے ہیں (کبھی کبھی ہر 1 سے 2 گھنٹے بعد)
کبھی تھوڑی تھوڑی دیر بعد لگاتار دودھ مانگتے ہیں، خاص طور پر شام کو (اسے کلسٹر فیڈنگ کہتے ہیں)
دودھ پیتے ہوئے کبھی کبھی چڑچڑے ہو جاتے ہیں
اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کا دودھ کم ہے۔ یہ بچے کا طریقہ ہے آپ کے جسم کو زیادہ دودھ بنانے کا اشارہ دینے کا۔
شروع میں چھاتیاں بہت بھری ہوئی لگتی ہیں۔ کچھ ہفتوں بعد وہ نرم ہو جاتی ہیں۔ اس کا مطلب اکثر یہ ہوتا ہے کہ جسم نے بچے کی ضرورت کے حساب سے دودھ بنانا سیکھ لیا ہے، نہ کہ دودھ کم ہو گیا ہے۔
ایک اور ضروری بات
پمپ سے جتنا دودھ نکلتا ہے، اس سے یہ پتا نہیں چلتا کہ بچہ کتنا دودھ پی رہا ہے۔ تو اگر بار بار دودھ پلانا، نرم چھاتیاں یا چڑچڑا بچہ آپ کو پریشان کر رہے ہیں، تو آپ اکیلی نہیں ہیں۔ اکثر یہ سب بالکل عام ہوتا ہے۔
لیکن کبھی کبھی دودھ واقعی کم ہوتا ہے، اور تب اسے بڑھانے کے طریقے جاننا ضروری ہو جاتے ہیں۔
دودھ کم ہونے کی اصل نشانیاں
دودھ پلانے کی زیادہ تر فکریں بلاوجہ ہوتی ہیں۔ لیکن کچھ نشانیاں ایسی ہیں جو بتاتی ہیں کہ بچے کو واقعی کافی دودھ نہیں مل رہا۔ انہیں پہچان لیں تو آپ وقت پر مدد لے سکتی ہیں۔ سب سے پکی نشانیاں دو ہیں: بچے کا وزن اور اس کے ڈائپر۔ بچے کا رونا یا بار بار دودھ مانگنا اتنی پکی نشانی نہیں۔
بچے کا وزن نہ بڑھنا
پیدائش کے بعد بچے کا تھوڑا وزن کم ہونا عام بات ہے۔ لیکن زیادہ تر صحت مند بچے 10 سے 14 دن میں اپنا پیدائش والا وزن واپس پا لیتے ہیں۔
کم گیلے یا گندے ڈائپر
پانچویں دن کے بعد زیادہ تر بچے دن میں کم از کم چھ ڈائپر گیلے کرتے ہیں اور تین یا زیادہ بار پاخانہ کرتے ہیں۔ پہلے مہینے کے بعد پاخانے کی تعداد بدل سکتی ہے۔
پانی کی کمی کی نشانیاں
بچے کا منہ سوکھا ہو، پیشاب گہرا پیلا ہو، یا بچہ بہت زیادہ سوتا رہے اور سست لگے۔
دودھ پیتے ہوئے نگلنے کی آواز نہ آنا
اگر بچہ بہت دیر تک یا بہت کم دیر دودھ پیتا ہے، اور نگلنے کی آواز بہت کم آتی ہے، تو ہو سکتا ہے اسے زیادہ دودھ نہیں مل رہا۔
دودھ پینے کے بعد بھی بھوکا لگنا
تھوڑا رونا عام ہے۔ لیکن اگر بچہ ہر بار دودھ پینے کے فوراً بعد بھی بھوکا لگے، تو اس پر دھیان دیں۔
اگر ان میں سے کوئی نشانی نظر آئے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے کچھ غلط کیا ہے۔ دودھ پر کئی چیزوں کا اثر ہوتا ہے، جیسے بچہ کیسے منہ لگاتا ہے، آپ اسے کیسے پکڑتی ہیں، اور آپ کی اپنی صحت۔
گھبرائیں نہیں، بس مدد لیں۔ دودھ پلانے کی ماہر (لیکٹیشن کنسلٹنٹ)، بچوں کے ڈاکٹر یا اپنی ڈاکٹر سے بات کریں۔ اکثر مسئلہ جلدی ٹھیک ہو جاتا ہے۔
اب دیکھتے ہیں کہ دودھ کم کیوں ہوتا ہے اور آپ کیا کر سکتی ہیں۔
دودھ کم کیوں ہوتا ہے؟
اکثر دودھ کم ہونے کی وجہ کوئی بڑی بیماری نہیں، بلکہ چند چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں جو آسانی سے ٹھیک ہو سکتی ہیں۔
بچے کا صحیح منہ نہ لگانا
اگر بچہ صرف نپل منہ میں لیتا ہے اور چھاتی کا کالا حصہ ٹھیک سے منہ میں نہیں لیتا (اسے کمزور لیچ کہتے ہیں)، تو وہ پورا دودھ نہیں نکال پاتا۔ اور جب دودھ کم نکلتا ہے، تو جسم دودھ بھی کم بناتا ہے۔
اگر آپ کو یقین نہیں کہ بچہ صحیح منہ لگا رہا ہے، تو صحیح طریقہ دوبارہ دیکھ لیں۔
شیڈیول کے حساب سے دودھ پلانا
نئے بچوں کو بار بار دودھ چاہیے۔ اگر آپ گھڑی دیکھ کر دودھ پلاتی ہیں یا دو فیڈز کے بیچ لمبا وقفہ رکھتی ہیں، تو جسم کو کم دودھ بنانے کا اشارہ ملتا ہے۔
جب بچہ مانگے تب دودھ پلانا، دودھ بڑھانے کا سب سے اچھا قدرتی طریقہ ہے۔
جلدی اوپر کا دودھ شروع کر دینا
کبھی کبھی ڈاکٹر کے کہنے پر ڈبے کا دودھ (فارمولا) دینا پڑتا ہے۔ لیکن اگر ماں کے دودھ کی جگہ بار بار فارمولا دیا جائے، اور اس وقت ماں پمپ سے دودھ نہ نکالے، تو آہستہ آہستہ جسم کم دودھ بنانے لگتا ہے۔
ماں کی صحت
ڈیلیوری کے بعد جسم ابھی ٹھیک ہو رہا ہوتا ہے۔ ہارمونز کا مسئلہ، ڈیلیوری میں زیادہ خون بہہ جانا، یا کوئی اور بیماری دودھ پر اثر ڈال سکتی ہے۔ ڈاکٹر کے علاج کے ساتھ ساتھ نیوٹریشن اینڈ فٹنس ایکسپرٹ بھی بتا سکتا ہے کہ آپ کو کھانے میں کیا چاہیے۔
تھکن، ٹینشن اور پانی کی کمی
ڈیلیوری کے بعد تھکن اور ٹینشن ہونا عام بات ہے۔ یہ سیدھا دودھ بند نہیں کرتیں، لیکن دودھ پلانے کا معمول خراب کر سکتی ہیں۔
پانی پیتی رہیں، اچھا کھانا کھائیں، اور گھر والوں سے مدد لیں۔ اس سے دودھ بڑھنے میں مدد ملتی ہے۔
اچھی خبر یہ ہے کہ جب وجہ پتا چل جائے، تو اکثر چھوٹی سی تبدیلی سے دودھ واپس بڑھ جاتا ہے۔
دودھ قدرتی طریقے سے کیسے بڑھائیں
اچھی خبر یہ ہے کہ زیادہ تر ماؤں کا دودھ بڑھ سکتا ہے۔ جب آپ کو پتا ہو کہ مسئلہ کہاں ہے، جیسے بچے کا منہ لگانا، دودھ پلانے کی تعداد یا آپ کی صحت، تو صحیح قدم اٹھانا آسان ہو جاتا ہے۔
بار بار دودھ پلائیں
بچہ جتنی بار دودھ پیے گا، جسم اتنا ہی زیادہ دودھ بنائے گا۔ شروع کے ہفتوں میں نئے بچے کا بار بار دودھ پینا بالکل عام ہے۔ جب بھی بچہ بھوکا لگے، اسے دودھ پلائیں۔
بچے کو صحیح طرح منہ لگوائیں
دودھ بڑھانے کا سب سے اچھا طریقہ یہ ہے کہ بچہ صحیح طرح منہ لگائے، تاکہ وہ پورا دودھ نکال سکے۔ اگر بچہ صحیح منہ نہیں لگاتا، تو وہ کم دودھ نکالتا ہے، اور آہستہ آہستہ دودھ کم ہو جاتا ہے۔
بچے کو پکڑنے کا طریقہ تھوڑا سا بدلنے سے بھی بڑا فرق پڑ سکتا ہے۔
پمپ استعمال کریں
اگر بچہ ٹھیک سے دودھ نہیں پی پا رہا، یا آپ نے فارمولا شروع کیا ہے، تو پمپ سے دودھ نکالنے سے آپ کا دودھ بنتا رہے گا اور بڑھے گا بھی۔
دودھ پلانے کے بعد، یا دو فیڈز کے بیچ میں، دن میں چند بار پمپ کریں۔ اس سے جسم کو اشارہ ملتا ہے کہ زیادہ دودھ چاہیے۔
فارمولا سوچ سمجھ کر دیں
جیسا کہ پہلے بتایا، بغیر پمپ کیے بار بار فارمولا دینے سے دودھ کم ہو سکتا ہے۔ اگر فارمولا دینا ضروری ہے، تو ساتھ میں پمپ بھی کرتی رہیں۔
اچھا کھائیں اور پانی پئیں
دودھ بنانے کے لیے جسم کو طاقت چاہیے۔ پانی پیتی رہیں اور اچھا کھانا کھائیں۔ نیوٹریشن اینڈ فٹنس ایکسپرٹ آپ کو بتا سکتا ہے کہ دودھ پلانے کے دنوں میں آپ کو کیا کھانا چاہیے۔
آرام کریں
آرام بہت ضروری ہے۔ تھکن اور ٹینشن سے دودھ پلانے کا معمول بگڑتا ہے، جس کا اثر دودھ پر پڑتا ہے۔ گھر والوں سے مدد لیں تاکہ آپ کو آرام مل سکے۔
اگر یہ سب کرنے کے بعد بھی لگے کہ کچھ ٹھیک نہیں، تو گائناکالوجسٹ یا دودھ پلانے کی ماہر سے ملیں۔ وہ اصل مسئلہ ڈھونڈ کر آپ کو صحیح مشورہ دیں گی۔
چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں بہت کام کرتی ہیں، اور صحیح مدد سے دودھ پلانے کے زیادہ تر مسئلے حل ہو جاتے ہیں۔
خود پر بھروسہ رکھیں
دودھ کم ہونے کی فکر بہت عام ہے، خاص طور پر شروع کے ہفتوں میں۔ بار بار دودھ پلانا، نرم چھاتیاں یا چڑچڑا بچہ اکثر بالکل نارمل ہیں۔ لیکن ان نشانیوں کو پہچاننا ضروری ہے جو بتاتی ہیں کہ بچے کو واقعی کافی دودھ نہیں مل رہا۔
جب آپ کو پتا ہو کہ کیا عام ہے اور کب مدد لینی ہے، تو آپ زیادہ اعتماد سے فیصلے کر سکتی ہیں۔
اگر آپ کو اپنے دودھ کی فکر ہے، تو دودھ پلانے کی ماہر یا اپنی ڈاکٹر سے بات کرنے میں بالکل نہ ہچکچائیں۔ ماڈرن ہسپتال میں ہماری زچہ و بچہ ٹیم دودھ پلانے میں مدد، ڈیلیوری کے بعد کی دیکھ بھال، اور ہر قدم پر مشورہ دیتی ہے، تاکہ آپ اور آپ کے بچے کی اچھی شروعات ہو۔
اکثر پوچھے جانے والے سوال
1. میں قدرتی طریقے سے دودھ کیسے بڑھا سکتی ہوں؟
بچے کو بار بار دودھ پلائیں، اسے صحیح طرح منہ لگوائیں، جب وہ مانگے تب دودھ دیں، ضرورت ہو تو پمپ کریں، پانی پئیں، اچھا کھائیں اور آرام کریں۔
2. کیسے پتا چلے کہ میرا دودھ کم ہے؟
اگر بچے کا وزن نہیں بڑھ رہا، پہلے ہفتے کے بعد دن میں چھ سے کم ڈائپر گیلے ہوتے ہیں، بچے میں پانی کی کمی کی نشانیاں ہیں، دودھ پیتے ہوئے نگلنے کی آواز کم آتی ہے، یا بچہ دودھ کے بعد بھی بھوکا لگتا ہے۔ ڈاکٹر یا دودھ پلانے کی ماہر بتا سکتی ہے کہ دودھ واقعی کم ہے یا نہیں۔
3. کیا بچے کا ہر گھنٹے دودھ مانگنا نارمل ہے؟
جی ہاں۔ نئے بچے اکثر بار بار دودھ مانگتے ہیں، خاص طور پر جب وہ تیزی سے بڑھ رہے ہوں۔ ہر ایک سے تین گھنٹے بعد دودھ پلانے سے دودھ بڑھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ بچے کو دودھ کم مل رہا ہے۔
4. کیا نرم چھاتیوں کا مطلب ہے کہ دودھ کم ہو گیا ہے؟
ضروری نہیں۔ کچھ ہفتوں بعد چھاتیاں نرم ہو جاتی ہیں کیونکہ جسم بچے کی ضرورت کے حساب سے دودھ بنانا سیکھ لیتا ہے۔ چھاتیوں کے بھرے ہونے سے دودھ کی مقدار کا پتا نہیں چلتا۔
5. کیا پمپ سے کم دودھ نکلنے کا مطلب ہے کہ دودھ کم ہے؟
نہیں۔ پمپ سے نکلنے والے دودھ سے اصل مقدار کا پتا نہیں چلتا۔ بچہ اکثر پمپ سے زیادہ دودھ نکال لیتا ہے۔ پمپ کی سیٹنگ، وقت اور ٹینشن بھی اس پر اثر ڈالتے ہیں۔
6. کون سی چیزیں کھانے سے دودھ بڑھتا ہے؟
اچھا اور پورا کھانا، جس میں پروٹین، اناج، پھل اور سبزیاں ہوں، دودھ پلانے میں مدد کرتا ہے۔ اوٹس، میتھی اور سوہانجنا جیسی چیزیں اکثر بتائی جاتی ہیں، لیکن یہ پکا ثابت نہیں کہ یہ دودھ بڑھاتی ہیں۔ یہ بار بار دودھ پلانے یا ڈاکٹر کے مشورے کی جگہ نہیں لے سکتیں۔
7. دودھ کم ہو تو ڈاکٹر کو کب دکھائیں؟
اگر بچے کا وزن نہیں بڑھ رہا، ڈائپر کم گیلے ہو رہے ہیں، بچے میں پانی کی کمی کی نشانیاں ہیں، یا طریقہ بدلنے کے بعد بھی دودھ پلانے میں درد یا مشکل ہو رہی ہے، تو ڈاکٹر یا دودھ پلانے کی ماہر سے ملیں۔
8. کیا ٹینشن سے دودھ کم ہو جاتا ہے؟
ٹینشن سے دودھ بننا بند نہیں ہوتا، لیکن دودھ اترنے میں مشکل ہو سکتی ہے اور دودھ پلانا مشکل لگ سکتا ہے۔ آرام کریں، پانی پئیں، گھر والوں کا ساتھ لیں، اور باقاعدگی سے دودھ پلاتی رہیں۔
