
عالمی یومِ قلب 2021: اس دن سے فائدہ اٹھائیے اور اپنے دل کو صحت مند بنائیے
شائع کردہ: ایڈمن، زمرہ: مریضوں کی آگاہی
دنیا بھر میں ایک کروڑ ستر لاکھ سے زائد افراد دل کے امراض سے موت کا شکار ہوتے ہیں۔ دل کی بیماریوں کے عالمی پھیلاؤ کے ساتھ ساتھ پاکستان میں بھی ان کی شرح بڑھ رہی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے 2016ء کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہونے والی کل اموات کا 19 فیصد دل کے امراض کے سبب تھا۔ مگر گزشتہ پانچ برسوں میں اس میں 29 فیصد کا نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
عالمی یومِ قلب کی تاریخ اور مقاصد۔
عالمی یومِ قلب کا آغاز ورلڈ ہارٹ فیڈریشن نے 2000ء میں کیا۔ تب سے یہ ہر سال 29 ستمبر کو منایا جاتا ہے۔ عالمی یومِ قلب 2021 کا بنیادی مقصد دل اور شریانوں کے امراض کے بارے میں شعور بیدار کرنا ہے، اور یہ بتانا کہ ہر شخص ان امراض اور ان سے ہونے والی اموات کے عالمی اثر کو کم کرنے میں اپنا کردار کیسے ادا کر سکتا ہے۔ یہ دن دنیا بھر میں سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر مختلف عمارتیں، یادگاریں اور نمایاں مقامات سرخ رنگ میں روشن کیے جاتے ہیں تاکہ دل کے امراض کے بارے میں آگاہی پھیلے۔
اس عالمی مقصد میں ہر شخص کیسے حصہ لے سکتا ہے۔
دل کے مرض کے ساتھ زندگی گزارنا کسی کے لیے بھی نہایت دشوار ہے۔ اس لیے ہر شخص کو چاہیے کہ معاشرے سے خطرے کے اسباب ختم کر کے اس دن کو منانے میں شریک ہو۔ جو بھی اس دن کو منانا چاہے، اسے اپنے دل کی صحت پر زیادہ توجہ دینی چاہیے۔ اس کے کئی طریقے ہیں: جسمانی ورزش کرنا، تمباکو نوشی ترک کرنا اور متوازن غذا کھانا۔ اس کے علاوہ پاکستان کے ہر ذمہ دار شہری کو اپنا فشارِ خون اور کولیسٹرول باقاعدگی سے جانچواتے رہنا چاہیے۔
دل کے امراض کے بارے میں شعور بیدار کرنا اتنا اہم کیوں ہے؟
خوش قسمتی سے دل اور شریانوں کے جان لیوا امراض کے بیشتر اسباب قابلِ اصلاح ہیں۔ ان میں سے جو ہمارے معاشرے میں سب سے عام ہیں، وہ ہیں ورزش کی کمی، تمباکو نوشی اور غیر صحت مند غذائی عادات۔ اگر ان اسباب پر ابتدا ہی میں قابو پا لیا جائے تو بیشتر لوگ دائمی امراض میں مبتلا ہونے سے بچ سکتے ہیں۔
بہتر جانچ بروقت تشخیص کا ذریعہ ہے۔
ہر پانچ میں سے تقریباً ایک شخص کو دل کے فیل ہو جانے کا خطرہ لاحق ہوتا ہے۔ یہ 65 برس سے زائد عمر کے مریضوں کے ہسپتال میں داخلے کی بڑی وجوہات میں بھی شمار ہوتا ہے۔ اس بلند شرح کی وجہ مریضوں کے دل کے معائنے میں نمایاں کمی ہے، جس سے تشخیص میں تاخیر ہوتی ہے۔ اس لیے ڈاکٹروں کو لوگوں میں یہ شعور پیدا کرنا چاہیے کہ دل کے امراض کی ابتدائی علامات کو محض بڑھتی عمر کی نشانیاں سمجھ کر نظر انداز نہ کیا جائے۔
دل کے مسائل کے لیے ماڈرن ہسپتال کے ماہرینِ قلب سے مشورہ کیجیے۔
اطمینان کی بات یہ ہے کہ مختلف ادارے عالمی یومِ قلب 2021 کو بامقصد بنانے کے لیے بھرپور کوشش کر رہے ہیں۔ بیشتر ڈاکٹر بھی دل کی صحت کے بارے میں آگاہی پھیلا رہے ہیں۔ اس سلسلے میں ماڈرن ہسپتال کے ڈاکٹروں کی سرگرمیاں خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ جو بھی اپنے دل کی حالت کا معائنہ کروانا چاہے، وہ ذیل میں دیے گئے اوقات میں ماڈرن ہسپتال کے ماہرینِ قلب سے رجوع کر سکتا ہے۔
ماہرِ امراضِ قلب | دن | وقت |
| ڈاکٹر اعراج جمیل | منگل، جمعرات، جمعہ اور اتوار | رات 8:00 تا 10:00 |
| ڈاکٹر زاہد رشید | پیر، بدھ اور جمعہ | شام 6:30 تا 7:30 |
