
ڈینگی میں پلیٹلیٹس: مریض اور گھر والوں کو کیا سمجھنا چاہیے
پاکستان میں ہر سال ڈینگی کا موسم کافی گھرانوں کے پریشانی کا باعث بنتا ہے، خاص طور پر جب رپورٹ میں پلیٹلیٹس کم آنے لگیں۔ ایسے میں مریض اور گھر والوں کا پہلا سوال یہی ہوتا ہے:
"کتنے پلیٹلیٹس کم ہوں تو خطرہ ہے؟"
یہ مریض کی تیمارداری کے لئے کافی اہم سوال ہے۔ پلیٹلیٹس کا کام خون روکنا ہے، اور ڈینگی میں مسلسل جگہ جگہ سے خون بہنے کا ڈر رہتا ہے۔ لیکن ایک بات اکثر لوگ نہیں جانتے: صرف پلیٹلیٹس کی تعداد سے یہ پتا نہیں چلتا کہ ڈینگی کتنا خطرناک ہے۔
بہت سے مریضوں کے پلیٹلیٹس بہت کم ہو جاتے ہیں اور پھر بھی وہ آرام سے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ جبکہ کچھ مریضوں کے پلیٹلیٹس زیادہ ہونے کے باوجود ان میں خطرے کی نشانیاں آ جاتی ہیں اور انہیں فوراً علاج چاہیے ہوتا ہے۔
ڈینگی کے بارے میں بہت سی غلط باتیں پھیلی ہوئی ہیں، اور لوگ مریض کی حالت دیکھنے کے بجائے صرف رپورٹ کے نمبر دیکھتے ہیں۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) بھی یہی کہتا ہے کہ ڈینگی کا علاج صرف رپورٹ دیکھ کر نہیں ہوتا۔ ڈاکٹر مریض کی علامات، اس کا معائنہ، اور رپورٹس میں روز کی تبدیلی، سب ملا کر دیکھتا ہے۔
اگر آپ یہ سمجھ لیں کہ ڈینگی میں پلیٹلیٹس کیسے بدلتے ہیں اور اصل میں کن باتوں پر دھیان دینا ہے، تو آپ بلاوجہ نہیں گھبرائیں گے اور وقت پر صحیح فیصلہ کر سکیں گے۔
پلیٹلیٹس کیا ہیں اور ڈینگی میں کیوں اہم ہیں
پلیٹلیٹس خون میں موجود بہت چھوٹے ذرات ہیں جن کا کام خون روکنا ہے۔ جب جسم میں کہیں چوٹ لگتی ہے، تو پلیٹلیٹس وہاں اکٹھے ہو کر زخم کو بند کر دیتے ہیں، تاکہ خون بہنا رک جائے۔
اسی لیے لوگ سمجھتے ہیں کہ پلیٹلیٹس کم ہوں تو خون بہنے کا خطرہ ہوتا ہے۔ لیکن ڈینگی میں بات اتنی سیدھی نہیں۔
پلیٹلیٹس کا پتا خون کے ایک عام ٹیسٹ سے چلتا ہے، جسے سی بی سی (CBC) کہتے ہیں۔ ایک صحت مند انسان میں پلیٹلیٹس عام طور پر ڈیڑھ لاکھ سے ساڑھے چار لاکھ کے درمیان ہوتے ہیں۔ ڈینگی میں ان کا اس سے کم ہو جانا عام بات ہے۔
ڈینگی میں پلیٹلیٹس کیوں گرتے ہیں
ڈینگی تین طرح سے پلیٹلیٹس کم کرتا ہے:
پلیٹلیٹس کم بنتے ہیں
پلیٹلیٹس ہڈیوں کے اندر بنتے ہیں۔ ڈینگی کا وائرس کچھ دنوں کے لیے یہ کام سست کر دیتا ہے، اس لیے نئے پلیٹلیٹس کم بنتے ہیں۔
پلیٹلیٹس زیادہ ٹوٹتے ہیں
وائرس سے لڑتے ہوئے جسم کبھی کبھی غلطی سے اپنے ہی پلیٹلیٹس کو بھی ختم کرنے لگتا ہے۔
پلیٹلیٹس جلدی خرچ ہوتے ہیں
شدید ڈینگی میں خون کی نالیوں سے پانی باہر نکلنے لگتا ہے۔ اس وقت پلیٹلیٹس بہت تیزی سے استعمال ہو جاتے ہیں۔
اسی لیے ڈینگی میں پلیٹلیٹس کا گرنا عام بات ہے، خاص طور پر بیماری کے تیسرے سے ساتویں دن کے بیچ۔
صرف پلیٹلیٹس دیکھنا کیوں نقصاندہ ہے
یہ دو باتیں یاد رکھیں:
پلیٹلیٹس کم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ڈینگی خطرناک ہے۔
پلیٹلیٹس زیادہ ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔
ڈاکٹر صرف پلیٹلیٹس نہیں دیکھتے۔ وہ یہ سب دیکھتے ہیں:
ڈینگی کی علامات، جیسے بار بار الٹی یا پیٹ میں درد
کہیں سے خون تو نہیں آ رہا
ہیماٹوکرٹ (HCT)، جس سے پتا چلتا ہے کہ خون کتنا گاڑھا ہو گیا ہے
مریض کے جسم میں پانی کتنا ہے، اور بلڈ پریشر اور نبض کیسے ہیں
اسی لیے ڈینگی میں بار بار لیب ٹیسٹ اور چیک اپ ہوتے ہیں۔
پلیٹلیٹس ضروری ہیں، لیکن یہ پوری بات کا صرف ایک حصہ ہیں۔ یہ سمجھ لیں تو آپ بلاوجہ گھبرائیں گے نہیں، اور اصل بات پر دھیان دیں گے:
خطرے کی نشانیاں پہچانیں، اور ضرورت ہو تو وقت پر ہسپتال جائیں۔
ایک رپورٹ نہیں، روز کی تبدیلی دیکھیں
سب سے بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ایک رپورٹ کے نمبر سے پتا چل جاتا ہے کہ مریض کتنا بیمار ہے۔
اصل میں ڈاکٹر ایک رپورٹ کو نہیں، بلکہ یہ دیکھتے ہیں کہ روز پلیٹلیٹس کس طرف جا رہے ہیں۔
روز کی تبدیلی کیوں زیادہ اہم ہے
ڈینگی ایک خاص ترتیب سے چلتا ہے، اور پلیٹلیٹس بھی اسی کے ساتھ بدلتے ہیں۔ اس لیے ڈاکٹر ایک رپورٹ پر فیصلہ نہیں کرتے۔ وہ کئی دن تک سی بی سی ٹیسٹ کروا کر دیکھتے ہیں کہ پلیٹلیٹس گر رہے ہیں، رکے ہوئے ہیں یا بڑھ رہے ہیں۔
عام طور پر اس کا مطلب یہ ہوتا ہے:
آہستہ آہستہ گرنا
شروع کے دنوں میں (عام طور پر تیسرے سے پانچویں دن) پلیٹلیٹس کا آہستہ آہستہ گرنا ڈینگی میں عام ہے۔
گرنا رک جانا
جب پلیٹلیٹس گرنا بند ہو جائیں، تو اکثر اس کا مطلب ہے کہ مریض سنبھل رہا ہے۔
بڑھنا شروع ہونا
اگر پلیٹلیٹس روز بڑھ رہے ہیں، تو عام طور پر مریض ٹھیک ہو رہا ہے۔
تیزی سے گرنا اور ساتھ میں دیگر علامات کا نمودار ہونا
اگر پلیٹلیٹس تیزی سے گریں اور ساتھ میں خون آئے یا بہت کمزوری ہو، تو یہ خطرے کی بات ہے۔ ایسے میں مریض پر زیادہ نظر رکھنی پڑتی ہے۔
ایک نمبر دھوکا دے سکتا ہے
صرف ایک رپورٹ کا نمبر دیکھ کر گھبرانا ٹھیک نہیں۔ مثال کے طور پر، جس مریض کے پلیٹلیٹس 45,000 ہیں لیکن وہ ٹھیک محسوس کر رہا ہے، وہ اس مریض سے بہتر ہو سکتا ہے جس کے پلیٹلیٹس 1,80,000 ہیں لیکن تیزی سے گر رہے ہیں اور ساتھ میں علامات بھی ہیں۔
اسی لیے ڈاکٹر ایک رپورٹ دیکھ کر فیصلہ نہیں کرتے۔
مریض کی حالت سب سے پہلی ترجیح
امریکا کا صحت کا ادارہ CDC بھی یہی کہتا ہے کہ ڈینگی میں رپورٹ اور مریض کی علامات، دونوں ساتھ دیکھی جاتی ہیں۔ یعنی:
سب سے پہلے علامات اور خطرے کی نشانیاں دیکھی جاتی ہیں۔
پلیٹلیٹس کی رپورٹ ڈاکٹر کی مدد کرتی ہے، لیکن اکیلے فیصلہ نہیں کرتی۔
تو اگر آپ پلیٹلیٹس پر نظر رکھ رہے ہیں، تو صرف نمبر نہیں، یہ دیکھیں کہ روز کیا بدل رہا ہے اور مریض کیسا محسوس کر رہا ہے۔ ڈاکٹر کے کہے پر چلنا ایک نمبر پر گھبرانے سے کہیں بہتر ہے۔
پلیٹلیٹس کے بارے میں عام غلط فہمیاں
ڈینگی کے موسم میں پلیٹلیٹس کے بارے میں بہت سی غلط باتیں پھیل جاتی ہیں۔ ان کی وجہ سے لوگ گھبرا جاتے ہیں، بلاوجہ کے علاج کرواتے ہیں، یا صحیح فیصلے میں دیر کر دیتے ہیں۔ آئیے سب سے عام غلط فہمیاں دیکھتے ہیں۔
غلط فہمی 1: ایک لاکھ سے کم پلیٹلیٹس ہمیشہ خطرناک ہیں
یہ سب سے زیادہ پھیلی ہوئی غلط فہمی ہے۔ ڈینگی میں پلیٹلیٹس کا نارمل سے کم ہونا عام بات ہے۔ بہت سے مریض ایک لاکھ سے کم پلیٹلیٹس کے ساتھ بھی آرام سے ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ اصل بات یہ ہے کہ مریض کی حالت ٹھیک ہے یا نہیں، اور کوئی خطرے کی نشانی نمودار نہ ہوں۔
غلط فہمی 2: پلیٹلیٹس گریں تو پلیٹلیٹس لگوانا ضروری ہے
ڈینگی میں ہر مریض کو پلیٹلیٹس نہیں چڑھائے جاتے۔ یہ صرف تب لگائے جاتے ہیں جب خون بہہ رہا ہو یا مریض کی حالت بہت خراب ہو۔ بلاوجہ پلیٹلیٹس لگوانے کے نقصانات ہو سکتے ہیں۔
غلط فہمی 3: کچھ چیزیں کھانے سے پلیٹلیٹس جلدی بڑھ جاتے ہیں
پپیتے کے پتوں کا جوس، مختلف جوس یا خاص کھانے اکثر فوری علاج کے طور پر بتائے جاتے ہیں۔
لیکن ایسا کوئی پکا ثبوت نہیں کہ یہ چیزیں ڈینگی میں پلیٹلیٹس جلدی بڑھاتی ہیں۔
مریض خود جسم کی طاقت اور صحیح علاج سے ٹھیک ہوتا ہے۔
غلط فہمی 4: پلیٹلیٹس بڑھنے لگیں تو خطرہ ختم
پلیٹلیٹس کا بڑھنا اچھی خبر ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مریض پوری طرح خطرے سے باہر ہے۔
ڈاکٹر مریض کے پوری طرح ٹھیک ہونے تک اس پر نظر رکھتے ہیں۔
غلط فہمی 5: صرف پلیٹلیٹس سے پتا چلتا ہے کہ ڈینگی کتنا خطرناک ہے
یہ سب سے ضروری غلط فہمی ہے جسے دور کرنا چاہیے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق ڈینگی کتنا خطرناک ہے، یہ صرف پلیٹلیٹس سے نہیں، بلکہ خطرے کی نشانیوں سے پتا چلتا ہے۔
حقیقی بات
پلیٹلیٹس ڈینگی کے چیک اپ کا صرف ایک حصہ ہیں۔ صرف ان پر بھروسہ کریں گے تو یا تو بلاوجہ ڈریں گے، یا غلط تسلی میں رہیں گے۔ ڈینگی کی علامات، روز کی رپورٹس اور ڈاکٹر کا چیک اپ، یہ سب مل کر ہی صحیح تصویر دکھاتے ہیں۔
کم پلیٹلیٹس کب خطرناک ہیں
ڈینگی میں پلیٹلیٹس کا گرنا عام ہے۔ یہ خطرناک تب بنتا ہے جب ساتھ میں جسم میں کچھ اور خرابی ہو رہی ہو۔
خطرے کی نشانیاں جن پر فوراً ہسپتال جائیں
اگر کم پلیٹلیٹس کے ساتھ یہ نشانیاں ہوں، تو انہیں کبھی نظر انداز نہ کریں:
کہیں سے خون آنا
مسوڑھوں یا ناک سے خون، پیشاب میں خون، یا کالا پاخانہ۔ اس کا مطلب ہے کہ خون ٹھیک سے نہیں جم رہا۔
بار بار الٹی
بار بار الٹی سے جسم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے، اور یہ بیماری بگڑنے کی نشانی ہو سکتی ہے۔
پیٹ میں تیز درد
اس کا مطلب ہو سکتا ہے کہ پیٹ کے اندر پانی جمع ہو رہا ہے یا کوئی اندرونی عضو متاثر ہو رہا ہے۔
بہت زیادہ نیند یا بے چینی
اگر مریض بہت زیادہ سونے لگے، ٹھیک سے جواب نہ دے، یا بہت بے چین ہو، تو یہ شدید ڈینگی کی نشانی ہو سکتی ہے۔
سانس لینے میں مشکل
ایسا تب ہو سکتا ہے جب سینے میں پانی جمع ہونے لگے۔
ان نشانیوں کو ڈینگی کی خطرے کی نشانیاں (وارننگ سائنز) کہتے ہیں۔ یہ پلیٹلیٹس کی تعداد سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔
نمبر سے زیادہ علامات اہم ہیں
CDC بھی یہی کہتا ہے کہ ڈینگی کتنا خطرناک ہے، یہ خطرے کی نشانیوں اور مریض کی حالت سے پتا چلتا ہے۔
یعنی:
اگر پلیٹلیٹس کم ہیں لیکن کوئی خطرے کی نشانی نہیں، تو مریض کو نظر میں رکھ کر گھر پر بھی سنبھالا جا سکتا ہے۔
اگر خطرے کی نشانیاں ہیں، تو پلیٹلیٹس زیادہ ہونے کے باوجود مریض کو فوراً ہسپتال لے جانا چاہیے۔
ہسپتال فوری طور پر کب جایا جائے؟
اگر مندرجہ بالا کوئی بھی نشانی ظاہر ہو، خاص طور پر بیماری کے تیسرے سے ساتویں دن کے بیچ، تو فوراً ڈاکٹر کو دکھائیں۔ یہی وہ دن ہیں جب ڈینگی اچانک خطرناک ہو سکتا ہے۔ ایسے میں وقت پر ایمرجنسی پہنچنا جان بچا سکتا ہے۔
یاد رکھیں: کم پلیٹلیٹس اکیلے خطرناک نہیں۔ خطرہ تب ہے جب ساتھ میں خطرے کی نشانیاں ہوں اور مریض کی حالت بگڑ رہی ہو۔ ان نشانیوں کو جلدی پہچان لیں، تو وقت پر صحیح علاج ہو سکتا ہے۔
پلیٹلیٹس لگوانے کی ضرورت کب پڑتی ہے؟
پلیٹلیٹس گرتے ہی اکثر گھر والے سمجھتے ہیں کہ اب پلیٹلیٹس لگوانے پڑیں گے۔
لیکن ڈاکٹر اس معاملے میں بہت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرتے ہیں۔
ہر مریض کو پلیٹلیٹس کیوں نہیں لگائے جاتے
عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق ڈینگی کے ہر مریض کو پلیٹلیٹس لگانے کی ضرورت نہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے:
زیادہ تر مریض وائرس ختم ہونے کے ساتھ خود ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔
ٹھیک ہوتے وقت پلیٹلیٹس اکثر خود ہی بڑھنے لگتے ہیں۔
پلیٹلیٹس لگانے سے ڈینگی کا وائرس ختم نہیں ہوتا۔
ڈاکٹر پلیٹلیٹس کب لگاتے ہیں
ان حالات میں پلیٹلیٹس لگانے پر غور کیا جا سکتا ہے:
جب زیادہ خون بہہ رہا ہو
جیسے ناک سے خون نہ رک رہا ہو، معدے یا آنتوں سے خون آ رہا ہو، یا اندر خون بہہ رہا ہو۔
جب ڈینگی بہت شدید ہو
جب خون بہنے کا خطرہ زیادہ ہو اور مریض کی حالت ٹھیک نہ ہو۔
جب پلیٹلیٹس بہت ہی کم ہوں اور ساتھ میں اور خطرے بھی ہوں
تب بھی فیصلہ صرف نمبر دیکھ کر نہیں، مریض کی پوری حالت دیکھ کر کیا جاتا ہے۔
بلاوجہ پلیٹلیٹس لگوانے کے نقصان
ضرورت نہ ہو اور پلیٹلیٹس لگا دیے جائیں، تو یہ مسئلے ہو سکتے ہیں:
الرجی یا ری ایکشن
جسم میں ضرورت سے زیادہ پانی چلا جانا، خاص طور پر کمزور مریضوں میں
انفیکشن کا خطرہ (چاہے خون چیک کیا گیا ہو)
گھر والوں پر بلاوجہ کا خرچہ
ڈاکٹر کا فیصلہ سب سے اہم
ڈاکٹر یہ سب دیکھ کر فیصلہ کرتے ہیں:
علامات اور خطرے کی نشانیاں
خون بہنے کا خطرہ کتنا ہے
بلڈ پریشر، نبض اور مریض کی حالت
رپورٹس میں روز کی تبدیلی
پلیٹلیٹس کم ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ پلیٹلیٹس لگوانے ہی پڑیں گے۔ یہ بات سمجھ لیں تو آپ بلاوجہ نہیں گھبرائیں گے، اور اصل کام پر دھیان دیں گے:
مریض پر نظر رکھیں، اس کا خیال رکھیں، اور ضرورت ہو تو وقت پر ہسپتال لے جائیں۔
گھر پر مریض کا خیال کیسے رکھیں؟
ڈینگی میں سب سے ضروری کام ہے مریض پر نظر رکھنا اور وقت پر قدم اٹھانا۔ یہ پتا ہو کہ کن باتوں پر دھیان دینا ہے، تو بہت فرق پڑتا ہے۔
ٹیسٹ کروائیں، لیکن ہر نمبر پر پریشان نہ ہوں
ڈاکٹر اکثر بار بار سی بی سی ٹیسٹ کرواتے ہیں تاکہ دیکھ سکیں کہ پلیٹلیٹس کس طرف جا رہے ہیں۔
ٹیسٹ سے پتا چلتا ہے کہ پلیٹلیٹس گر رہے ہیں، رکے ہوئے ہیں یا بڑھ رہے ہیں۔
ڈاکٹر رپورٹ کو مریض کی علامات کے ساتھ ملا کر دیکھتے ہیں۔
ڈاکٹر کے کہے بغیر بار بار ٹیسٹ کروانے سے صرف پریشانی بڑھتی ہے۔
ڈاکٹر جب کہے تب ٹیسٹ کروائیں۔ خود سے بار بار ٹیسٹ نہ کروائیں۔
رپورٹ سے زیادہ مریض کو دیکھیں
رپورٹ ضروری ہے، لیکن مریض کی روز کی حالت آپ کو رپورٹ سے پہلے بتا دیتی ہے کہ کچھ غلط ہو رہا ہے یا نہیں۔ ان باتوں پر نظر رکھیں:
مریض میں طاقت کم تو نہیں ہو رہی
وہ کتنا کھا پی رہا ہے
الٹی یا پیٹ میں درد تو نہیں
کہیں سے خون تو نہیں آ رہا
پانی اور آرام بہت ضروری ہیں
ڈینگی سے ٹھیک ہونے میں پانی پینا بہت اہم ہے:
اس سے جسم میں خون ٹھیک چلتا رہتا ہے۔
خطرناک دنوں میں مریض سنبھلا رہتا ہے۔
پانی کی کمی سے ہونے والی پیچیدگیوں کا خطرہ کم ہوتا ہے۔
آرام بھی اتنا ہی ضروری ہے، کیونکہ جسم کو وائرس سے لڑنے کے لیے وقت چاہیے۔
خود سے دوا نہ دیں اور ٹوٹکوں سے بچیں
اکثر گھر والے پلیٹلیٹس بڑھانے کے لیے میڈیکل اسٹور سے دوائیں لے آتے ہیں یا ٹوٹکے آزماتے ہیں۔
کچھ دوائیں (جیسے درد کی کچھ گولیاں) خون بہنے کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔
ٹوٹکوں کی وجہ سے صحیح علاج میں دیر ہو سکتی ہے۔
کوئی بھی نئی چیز دینے سے پہلے ڈاکٹر سے پوچھ لیں۔
پورا خیال رکھنے کے باوجود مریض کی حالت اچانک بدل سکتی ہے۔ خطرے کی کوئی نشانی نظر آئے، تو دیر نہ کریں اور فوراً ایمرجنسی لے جائیں۔
آخری بات
ڈینگی میں گھر والوں کا رپورٹس پر دھیان دینا فطری ہے، خاص طور پر جب پلیٹلیٹس گرنے لگیں۔ لیکن جیسا کہ ہم نے دیکھا، پلیٹلیٹس پوری بات کا صرف ایک حصہ ہیں۔
پلیٹلیٹس کم ہوں تو ضروری نہیں کہ مریض خطرے میں ہو، اور زیادہ ہوں تو ضروری نہیں کہ مریض محفوظ ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ مریض کیسا محسوس کر رہا ہے، کوئی خطرے کی نشانی تو نہیں، اور روز اس کی حالت کیسی ہو رہی ہے۔
ماڈرن ہسپتال میں ہم ڈینگی کا علاج اسی طرح کرتے ہیں۔ ہم صرف رپورٹ نہیں، مریض کو دیکھتے ہیں، اس پر پوری نظر رکھتے ہیں، اور بلاوجہ کا علاج نہیں کرتے۔ اس طرح مریض کو صحیح وقت پر صحیح علاج ملتا ہے۔
آخر میں، صحیح معلومات ہی آپ کی سب سے بڑی مدد ہے۔ جب آپ سمجھتے ہیں کہ ڈینگی میں پلیٹلیٹس کا کیا مطلب ہے، تو آپ بہتر فیصلے کر سکتے ہیں اور مریض کو جلدی ٹھیک ہونے میں مدد دے سکتے ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
1. نارمل پلیٹلیٹس کتنے ہوتے ہیں؟
عام طور پر ڈیڑھ لاکھ سے ساڑھے چار لاکھ۔ مختلف لیبز میں یہ حد تھوڑی سی الگ ہو سکتی ہے۔ اس سے کم پلیٹلیٹس کو ڈاکٹری زبان میں تھرومبوسائٹوپینیا کہتے ہیں۔
2. ڈینگی میں پلیٹلیٹس کیوں گرتے ہیں؟
ڈینگی کا وائرس کچھ دنوں کے لیے نئے پلیٹلیٹس بننا کم کر دیتا ہے، اور پرانے پلیٹلیٹس زیادہ تیزی سے ختم ہونے لگتے ہیں۔ شدید ڈینگی میں خون کی نالیوں سے پانی باہر نکلنے اور خون جمنے کے نظام میں خرابی سے بھی پلیٹلیٹس گرتے ہیں۔ بخار اترنے کے آس پاس کے دنوں میں پلیٹلیٹس کا گرنا خاص طور پر عام ہے۔
3. ڈینگی میں کتنے پلیٹلیٹس خطرناک ہیں؟
کوئی ایک نمبر ایسا نہیں جس سے پکا پتا چلے کہ مریض خطرے میں ہے۔ ڈاکٹر پلیٹلیٹس کے ساتھ یہ بھی دیکھتے ہیں کہ خون تو نہیں بہہ رہا، بلڈ پریشر کیسا ہے، جسم میں پانی کتنا ہے، پیشاب کتنا آ رہا ہے، اور مریض ہوش میں ہے یا نہیں۔ پلیٹلیٹس بہت کم ہوں تو ڈاکٹر کو ضرور دکھائیں، لیکن ایک نمبر سے زیادہ اہم مریض کی حالت ہے۔
4. کیا 50,000 پلیٹلیٹس خطرناک ہیں؟
50,000 پلیٹلیٹس نارمل سے کافی کم ہیں، لیکن صرف اس نمبر سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ڈینگی خطرناک ہو گیا ہے۔ ڈاکٹر دیکھتے ہیں کہ خون تو نہیں بہہ رہا، کوئی خطرے کی نشانی تو نہیں، اور مریض کی حالت کیسی ہے۔ WHO کے مطابق، اگر خون نہیں بہہ رہا تو صرف 50,000 سے کم ہونے کی وجہ سے پلیٹلیٹس نہیں لگانے چاہییں۔
5. کیا 30,000 پلیٹلیٹس خطرناک ہیں؟
30,000 پلیٹلیٹس بہت کم ہیں اور ڈاکٹر کو ضرور دکھانا چاہیے۔ لیکن صرف اس نمبر کا مطلب یہ نہیں کہ ڈینگی شدید ہے یا پلیٹلیٹس لگوانے پڑیں گے۔ ڈاکٹر دیکھیں گے کہ خون تو نہیں بہہ رہا یا حالت تو نہیں بگڑ رہی، اور مریض پر قریب سے نظر رکھیں گے۔
6. کیا 20,000 پلیٹلیٹس خطرناک ہیں؟
20,000 پلیٹلیٹس بہت ہی کم ہیں، اور ایسے میں مریض ڈاکٹر کی نگرانی میں رہنا چاہیے۔ لیکن پھر بھی صرف نمبر دیکھ کر پلیٹلیٹس نہیں لگائے جاتے۔ فیصلہ اس پر ہوتا ہے کہ مریض کی حالت کیسی ہے اور خون بہہ رہا ہے یا نہیں۔
7. کیا پلیٹلیٹس نارمل ہوں تب بھی ڈینگی ہو سکتا ہے؟
جی ہاں، خاص طور پر بیماری کے شروع میں۔ صرف پلیٹلیٹس دیکھ کر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ ڈینگی نہیں ہے۔ اس کے لیے ڈاکٹر کا چیک اپ اور ضرورت ہو تو ڈینگی کا ٹیسٹ ضروری ہے، کیونکہ ڈینگی کی علامات دوسرے بخاروں سے ملتی جلتی ہیں۔
8. ڈینگی میں پلیٹلیٹس کب گرنا شروع ہوتے ہیں؟
اکثر اس وقت جب بخار اترنے لگتا ہے۔ یہ عام طور پر بخار شروع ہونے کے تیسرے سے آٹھویں دن کے بیچ ہوتا ہے، اور یہی سب سے نازک وقت ہوتا ہے۔ لیکن ہر مریض میں یہ وقت تھوڑا الگ ہو سکتا ہے۔
